پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 446 of 567

پیغام صلح — Page 446

روحانی خزائن جلد ۲۳ پیغام صلح اُس نے کلمہ لا إِلهُ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کی گواہی دی ہے اور پھر وہ تبرکات دیکھے جو بمقام گر و ہر سہائے ضلع فیروز پور میں موجود ہیں جن میں ایک قرآن شریف بھی ہے تو کس کو اس بات میں شک ہو سکتا ہے کہ باوا نا تک صاحب نے اپنے پاک دل اور پاک فطرت اور اپنے پاک مجاہدہ سے اس راز کو معلوم کر لیا تھا جو ظاہری پنڈتوں پر پوشیدہ رہا۔ اور اُنہوں نے الہام کا دعوی کر کے اور خدا کی طرف سے نشان اور کرامات دکھلا کر اس عقیدہ کا خوب کھنڈن اور رد کر دیا جو کہا جاتا ہے کہ وید کے بعد کوئی الہام نہیں اور نہ نشان ظاہر ہوتے ہیں ۔ بلا شبہ باوا نا تک صاحب کا وجود ہندوؤں کے لئے خدا کی طرف سے ایک رحمت تھی ۔ اور یوں سمجھو کہ وہ ہندو مذہب کا آخری اوتار تھا جس نے اس نفرت کو دور کرنا چاہا تھا جو اسلام کی نسبت ہندوؤں کے دلوں میں تھی لیکن اس ملک کی یہ بھی بدقسمتی ہے کہ ہندو مذہب نے باوا نا تک صاحب کی تعلیم سے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ پنڈتوں نے اُن کو دکھ دیا کہ کیوں وہ اسلام کی تعریف جابجا کرتا ہے۔ وہ ہندو مذہب اور اسلام میں صلح کرانے آیا تھا (۱۳) مگر افسوس کہ اس کی تعلیم پر کسی نے توجہ نہیں کی ۔ اگر اُس کے وجود اور اس کی پاک تعلیموں سے کچھ فائدہ اٹھایا جاتا تو آج ہندو اور مسلمان سب ایک ہوتے۔ ہائے افسوس ہمیں اس تصور سے رونا آتا ہے کہ ایسا نیک آدمی دنیا میں آیا اور گذر بھی گیا مگر نادان لوگوں نے اُس کے نور سے کچھ روشنی حاصل نہیں کی ۔ بہر حال وہ اس بات کو ثابت کر گیا کہ خدا کی وحی اور اس کا الہام کبھی منقطع نہیں ہوتا اور خدا کے نشان اس کے برگزیدوں کے ذریعہ سے ہمیشہ ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اور اس بات کی گواہی دے گیا کہ اسلام کی دشمنی نور کی دشمنی ہے۔ ایسا ہی میں بھی اس بات میں صاحب تجربہ ہوں کہ خدا کی وحی اور خدا کا الہام ہرگز اس زمانہ سے منقطع نہیں کیا گیا بلکہ جیسا خدا پہلے بولتا تھا اب بھی بولتا ہے اور جیسا