پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 444 of 567

پیغام صلح — Page 444

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۴۴ پیغام صلح حال ہے۔ دنیا کی مشکلات بھی ایک ریگستان کا سفر ہے کہ جو عین گرمی اور تمازت آفتاب کے وقت کیا جاتا ہے پس اس دشوار گذار راہ کے لئے باہمی اتفاق کے اس سرد پانی کی ضرورت ہے جو اس جلتی ہوئی آگ کو ٹھنڈی کر دے اور نیز پیاس کے وقت مرنے سے بچاوے۔ ایسے نازک وقت میں یہ راقم آپ کو صلح کے لئے بلاتا ہے جب کہ دونوں کو صلح کی بہت ضرورت ہے ۔ دنیا پر طرح طرح کے ابتلا نازل ہو رہے ہیں۔ زلزلے آرہے ہیں۔ قحط پڑ رہا ہے اور طاعون نے بھی ابھی پیچھا نہیں چھوڑا اور جو کچھ خدا نے مجھے خبر دی ہے وہ بھی یہی ہے کہ اگر دنیا اپنی بد عملی سے باز نہیں آئے گی اور بُرے کاموں سے تو بہ نہیں کرے گی تو دنیا پر سخت سخت بلائیں آئیں گی اور ایک بلا ابھی بس نہیں کرے گی کہ دوسری بلا ظاہر ہو جائے گی ۔ آخر انسان نہایت تنگ ہو جائیں گے کہ یہ کیا ہونے والا ہے۔ اور بہتیری مصیبتوں کے بیچ میں آکر دیوانوں کی طرح ہو جائیں گے ۔ سواے ہم وطن بھائیو! قبل اس کے کہ وہ دن آویں ہوشیار ہو جاؤ اور چاہیے کہ ہند و مسلمان باہم صلح کر لیں اور جس قوم میں کوئی زیادتی ہے جو وہ صلح کی مانع ہو اس زیادتی کو وہ قوم چھوڑ دے ورنہ با ہم عداوت کا تمام گناہ اس قوم کی گردن پر ہوگا۔ اگر کوئی کہے کہ یہ کیوں کر وقوع میں آسکتا ہے کہ صلح ہو جائے حالانکہ با ہم مذہبی اختلاف صلح کے لئے ایک ایسا امر مانع ہے جو دن بدن دلوں میں پھوٹ ڈالتا جاتا ہے۔ میں اس کے جواب میں یہ کہوں گا کہ در حقیقت مذہبی اختلاف صرف اُس اختلاف کا نام ہے جس کی دونوں طرف عقل اور انصاف اور اُمور مشہودہ پر بنا ہو اور نہ انسان کو اسی بات کے لئے تو عقل دی گئی ہے کہ وہ ایسا پہلو اختیار کرے جو عقل اور انصاف سے بعید نہ ہو اور امور محسوسہ مشہورہ کے مخالف نہ ہو اور چھوٹے چھوٹے اختلاف صلح کے مانع نہیں ہو سکتے بلکہ وہی اختلاف صلح کا مانع ہوگا جس میں کسی کے مقبول پیغمبر اور مقبول الہامی کتاب پر تو ہین اور تکذیب کے ساتھ حملہ کیا جائے ۔