پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 443 of 567

پیغام صلح — Page 443

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۴۳ پیغام صلح پس جب کہ ہمارے خدا کے یہ اخلاق ہیں۔ تو ہمیں مناسب ہے کہ ہم بھی انہیں اخلاق کی پیروی کریں لہذا اے ہم وطن بھائیو! یہ محضر رسالہ جس کا نام ہے پیغام صلح بادب تمام آپ صاحبوں کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ اور بصدق دل دعا کی جاتی ہے کہ وہ قادر خدا آپ صاحبوں کے دلوں میں خود الہام کرے اور ہماری ہمدردی کا راز آپ کے دلوں پر کھول دے تا آپ اس دوستانہ تحفہ کو کسی خاص مطلب اور نفسانی غرض پر بنی تصور نہ فرماویں۔ عزیز و!! آخرت کا معاملہ تو عام لوگوں پر اکثر مخفی رہتا ہے اور انہیں پر عالم عظمی کا راز کھلتا ہے جو مرنے سے پہلے مرتے ہیں مگر دنیا کی نیکی اور بدی کو ہر ایک دوراندیش عقل شناخت کر سکتی ہے۔ یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ اتفاق ایک ایسی چیز ہے کہ وہ بلائیں جو کسی طرح دور نہیں ہو سکتیں اور وہ مشکلات جو کسی تدبیر سے حل نہیں ہوسکتیں وہ اتفاق سے حل ہو جاتی ہیں۔ پس ایک عقلمند سے بعید ہے کہ اتفاق کی برکتوں سے اپنے تئیں محروم رکھے۔ ہندو اور مسلمان ﴿۸﴾ اس ملک میں دو ایسی قو میں ہیں کہ یہ ایک خیال محال ہے کہ کسی وقت مثلاً ہند و جمع ہو کر مسلمانوں کو اس ملک سے باہر نکال دیں گے یا مسلمان اکٹھے ہو کر ہندوؤں کو جلا وطن کر دیں گے بلکہ اب تو ہندو مسلمانوں کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہو رہا ہے ۔ اگر ایک پر کوئی تباہی آوے تو دوسرا بھی اس میں شریک ہو جائے گا۔ اور اگر ایک قوم دوسری قوم کو محض اپنے نفسانی تکبر اور مشیخت سے حقیر کرنا چاہے گی تو وہ بھی داغ حقارت سے نہیں بچے گی۔ اور اگر کوئی اُن میں سے اپنے پڑوسی کی ہمدردی میں تو ا ہمدردی میں قاصر رہے گا تو اس کا نقصان وہ آر ن وہ آپ بھی اُٹھائے گا جو شخص تم دونوں قوموں میں ۔ سے دوسری قوم کی تباہی کی فکر میں ہے اُس کی اس شخص کی مثال ہے کہ جو ایک شاخ پر بیٹھ کر اُسی کو کاٹتا ہے ۔ آپ لوگ بفضلہ تعالیٰ تعلیم یا فتہ بھی ہو گئے ۔ اب کینوں کو چھوڑ کر محبت میں ترقی کرنا زیبا ہے اور بے مہری کو چھوڑ کر ہمدردی اختیار کرنا آپ کی عقلمندی کے مناسب