پیغام صلح — Page 440
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۴۰ پیغام صلح اور دوسری خدمات بھی بجا لاتے ہیں۔ اس کے پیدا کردہ عناصر یعنی ہوا اور پانی اور آگ اور خاک اور ایسا ہی اُس کی دوسری تمام پیدا کردہ چیزوں اناج اور پھل اور دوا وغیرہ سے تمام قو میں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ پس یہ اخلاق ربانی ہمیں سبق دیتے ہیں کہ ہم بھی اپنے بنی نوع انسانوں سے مروّت اور سلوک کے ساتھ پیش آویں اور تنگ دل اور تنگ ظرف نہ بنیں ۔ دوستو !! یقیناً سمجھو کہ اگر ہم دونوں قوموں میں سے کوئی قوم خدا کے اخلاق کی عزت نہیں کرے گی اور اس کے پاک خلقوں کے برخلاف اپنا چال چلن بنائے گی تو وہ قوم جلد ہلاک ہو جائے گی۔ اور نہ صرف اپنے تئیں بلکہ اپنی ذریت کو بھی تباہی میں ڈالے گی جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے تمام ملکوں کے راستباز یہ گواہی دیتے آئے ہیں کہ خدا کے اخلاق کا پیرو ہونا انسانی بقاء کے لئے ایک آب حیات ہے اور انسانوں کی جسمانی اور روحانی زندگی اسی امر سے وابستہ ہے کہ وہ خدا کے تمام مقدس اخلاق کی پیروی کرے جو سلامتی کا چشمہ ہیں۔ خدا نے قرآن شریف کو پہلے اسی آیت سے شروع کیا ہے جو سورۃ فاتحہ میں ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے یعنی تمام کامل اور پاک صفات خدا سے خاص ہیں جو تمام عالموں کا رب ہے ۔ عالم کے لفظ میں تمام مختلف قو میں اور مختلف زمانے اور مختلف ملک داخل ہیں ۔ اور اس آیت سے جو قرآن شریف شروع کیا گیا۔ یہ درحقیقت اُن قوموں کا رد ہے جو خدا تعالیٰ کی عام ربوبیت اور فیض کو اپنی ہی قوم تک محدود رکھتے ہیں اور دوسری قوموں کو ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کے بندے ہی نہیں اور گویا خدا نے اُن کو پیدا کر کے پھر ردی کی طرح پھینک دیا ہے یا اُن کو بھول گیا ہے اور یا (نعوذ باللہ ) وہ اس کے پیدا کردہ ہی نہیں جیسا کہ مثلاً یہودیوں اور عیسائیوں کا اب تک یہی خیال ہے کہ جس قدر خدا کے نبی اور رسول آئے ہیں وہ صرف یہود کے خاندان سے آئے ہیں اور خدا دوسری قوموں سے کچھ ایسا ناراض رہا ہے کہ اُن کو گمراہی اور غفلت میں الفاتحة : ٢