نزول المسیح — Page 619
۲۳۷ روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۶۱۵ نزول المسيح نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں ہیں بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۲ تطھیرا ۔ اس دعا پر تینوں فرشتوں اور مولوی عبد اللہ نے آمین کہی اس کے بعد وہ تینوں فرشتے اور مولوی عبداللہ آسمان کی طرف اُڑ گئے اور میری آنکھ کھل گئی۔ آنکھ کھلتے ہی مجھے یقین ہو گیا کہ مولوی عبد اللہ کی وفات قریب ہے اور میرے لئے آسمان پر ایک خاص فضل کا ارادہ ہے اور پھر میں ہر وقت محسوس کرتا رہا کہ ایک آسمانی کشش میرے اندر کام کر رہی ہے یہاں تک کہ وحی الہی کا سلسلہ جاری ہو گیا وہی ایک ہی رات تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے تمام و کمال میری اصلاح کر دی اور مجھ میں ایک ایسی تبدیلی واقع ہو گئی جو انسان کے ہاتھ سے یا انسان کے ارادے سے نہیں ہو سکتی تھی ۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی عبداللہ غزنوی اس نور کی گواہی کے لئے پنجاب کی طرف کھنچا تھا۔ اور اس نے میری نسبت گواہی دی اور اس گواہی کو حافظ محمد یوسف اور ان کے بھائی محمد یعقوب نے بیان بھی کیا مگر پھر دنیا کی محبت ان پر غالب آگئی اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھا نا لعنتی کا کام ہے کہ مولوی عبد اللہ نے میرے خواب میں میرے دعویٰ کی تصدیق کی اور میں دعا کرتا ہوں کہ اگر یہ قسم جھوٹی ہے تو اے قادر خدا مجھے ان لوگوں کی ہی زندگی میں جو مولوی عبد اللہ صاحب کی اولاد یا ان کے مرید یا شاگرد ہیں سخت عذاب سے مار ورنہ مجھے غالب کر اور ان کو شرمندہ یا تاریخ ظہور پیشگوئی ہدایت یافتہ ۔ مولوی عبداللہ صاحب کے اپنے مونہہ کے یہ لفظ تھے کہ مفتی محمد صادق صاحب شیخ حامد علی صاحب ۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب۔ شیخ یعقوب علی صاحب منشی ظفر احمد صاحب۔ میر ناصر نواب صاحب۔