نزول المسیح — Page 614
۲۳۲ روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۶۱۰ نزول المسيح نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اس وجی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بیان فرمائیں جو نیا پر ظاہر ہو چکیں محض دھوکا دہی سے اپنے فائدہ کے لئے کہہ دیا کہ لود یا نہ آ گیا ہے چنانچہ ہم اس جگہ سب اتر پڑے اور جب ریل چل دی تب ہم کو معلوم ہوا کہ یہ کوئی اور اسٹیشن تھا اور ایک بیابان میں اترنے سے سب جماعت کو تکلیف ہوئی اور اس طرح پر الہام مذکورہ کا دوسرا بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۱۳ پیشگوئی نمبر ۱۱۴ قريباً ١٨٨ء رویت زنده گواه حصہ بھی پورا ہو گیا ہے ایک دفعہ میری بیوی کے حقیقی بھائی سید محمد اسمعیل کا (جن کی عمر اس وقت دس برس کی تھی ) پٹیالہ سے خط آیا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اسحاق میرے چھوٹے بھائی کو کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے اور پھر خط کے آخیر میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ اسحاق بھی فوت ہو گیا ہے اور بڑی جلدی سے بلایا کہ دیکھتے ہی چلے آویں۔ اس خط کے پڑھنے سے بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اس وقت میرے گھر کے لوگ بھی سخت تپ سے بیمار تھے ۔ ایسی ناگہانی دو موتوں کی خبر میں ان کو سنا نہ سکا اور میں سخت بے قراری میں پڑ گیا کہ جن کو بلاتے ہیں وہ خود خطرناک پ میں مبتلا ہے اور میں ڈرتا تھا کہ اگر میں اس مخط کا مضمون اس بیماری کی حالت میں ان کو سناؤں تو جان کا اندیشہ ہے رات کو اس فکر سے نیند میری جاتی رہی کہ کیا کروں اور میں اس خط کو پوشیدہ بھی نہیں رکھ سکتا تھا جب ایک حصہ رات کا گذر گیا تو فکر کرتے کرتے میرا دل نہایت بے قرار ہو گیا جس کا میں اندازہ نہیں کر سکتا تب مجھے اسی تشویش میں ایک دفعہ غنودگی ہوئی اور یہ الہام تاریخ ظہور پیشگوئی قریباً اء لے اس نشان کے گواہ شیخ حامد علی صاحب ۔ شیخ عبدالرحیم صاحب ساکن انبالہ چھاؤنی اور فتح خان ایک افغان ہیں۔