نزول المسیح — Page 587
روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۵۸۳ نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر اہم پوچھیں حمله کنو بقیہ پیشگوئی نمبر ۷۳ بقیه زنده گواه رویت نزول المسيح یہ جواب کہ یہ چولہ باوا صاحب نے ایک قاضی سے زبر دستی چھینا تھا۔ یہ بہت بیہودہ جواب ہے سکھوں کو اب تک خبر نہیں کہ قاضیوں کا کام نہیں کہ چولے اپنے پاس رکھیں اسلام میں چولے رکھنا اس زمانہ میں فقیروں کی ایک رسم تھی پس یہ بات بہت صحیح ہے کہ باوا صاحب کے مرشد نے جو مسلمان تھا یہ چولہ ان کو دیا تھا ہاں یہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ جنم ساکھیوں میں بھی لکھا ہے کہ چونکہ باوا صاحب نیک بخت آدمی تھے اور بڑی مردانگی سے ہندوؤں سے قطع تعلق کر بیٹھے تھے مرد میدان بھی بڑے تھے اور ایک شخص حیات خان نامی افغان کی لڑکی سے نکاح بھی کیا تھا اور ملتان اور چند دوسرے اولیاء اسلام کے مقبروں پر چلہ کشی بھی کی تھی اس لئے خدا سے الہام پا کر یہ چولہ انہوں نے بنایا تھا یہ ان کی کرامت ہے گویا چولہ آسمان سے اترا۔ اور میری خواب میں جو باوانا تک صاحب نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اس سے یہی مراد تھی کہ ایک زمانہ میں ان کا مسلمان ہونا پبلک پر ظاہر ہو جائے گا۔ چنانچہ اسی امر کے لئے کتاب ست بچن تصنیف کی گئی تھی اور یہ جو میں نے ہندوؤں کو کہا کہ یہ چشمہ گدلا تاریخ ظہور پیشگوئی ہے ہمارے چشمہ سے پانی پیو اس سے یہ مراد تھی کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اہل ہنود اور سکھوں پر اسلام کی حقانیت صاف طور سے کھل جائے گی ۔ اور باوا صاحب کا چشمہ جس کو حال کے سکھوں نے اپنی کم فہمی سے گدلا بنا رکھا ہے وہ میرے ذریعہ صاف کیا جائے گا اور جس تعلق کو باوا صاحب نے ہندو قوم سے بڑی مردی اور مردانگی مولوی نورالدین صاحب وغیرہ بہت سے احباب ہیں اور اس کے پورا ہونے کا ثبوت خود چولہ ڈیرہ بابا نا تک میں اب تک موجود ہے جو چا ہے جا کر خود دیکھ سکتا ہے اور ان آیات کو پڑھ سکتا ہے جو ہم نے اپنی کتاب ست بچن میں لکھ دی ہیں۔