نزول المسیح — Page 552
روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۵۴۸ نزول المسيح نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیںجو دنیا پر ظاہر ہوچکیں پیشگوئی نمبر ۴۳ رویت نمبر ۴۳ بقیه زنده گواه اپنی قوم میں اس پیشگوئی کی قبل از وقوع شہرت دے دی اور جس قدر اس پیشگوئی کے وقوع کی شہرت ہوئی اس کے بیان کی اس سے کم شہرت نہ تھی البتہ وقوع کے وقت آریوں میں سخت ما تم ہوا اور ماتم کے ذریعہ سے انہوں نے اور بھی شہرت دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برٹش انڈیا کے تمام ہندو مسلمان اور عیسائی بلکہ ہماری گورنمنٹ خود اس نشان کی گواہ بن گئی۔ اللہ اللہ یہ کیسا مہیبت ناک اور دہشت ناک نشان ظاہر ہوا جس نے آنکھوں والوں کو خدا کا چہرہ دکھا دیا۔ واضح ہو کہ لیکھر ام ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن اور بد زبان تھا وہ آریوں کا ایک بڑا ایڈوکیٹ اور لیکچرار تھا اور جا بجا تقریریں کرتا پھرتا تھا اور کئی ایک کتابیں بھی اسلام کے برخلاف لکھی تھیں لیکن زرا گو سالہ تھا فہم اور علم اس کے نزدیک نہیں آیا تھا اور اس کے پاس بجز بد زبانی اور فحش گوئی اور نہایت قابل شرم گالیوں کے اور کچھ نہ تھا اور یہاں قادیان میں بھی مباحثہ کے لئے آیا اور پھر نشان کا طلب گار ہوا۔ اور ر ہوا۔ اور جب اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں یہ لکھا گیا کہ لیکھرام پشاوری اور بعض دیگر آریوں کے قضاء قدر کے متعلق کچھ تحریر ہو گا۔ اگر کسی صاحب پر ایسی پیشگوئی شاق گذرے تو وہ اطلاع دیں تا اس کی نسبت کوئی پیشگوئی شائع نہ کی جائے تو اس پر پنڈت لیکھرام کا کارڈ پہنچا کہ میں اجازت دیتا ہوں کہ میری موت کی نسبت پیشگوئی کی جائے مگر معیاد مقرر ہونی چاہئے ۔ پھر رسالہ کرامات الصادقین مطبوعہ صفر ۱۳۱۱ ہجری میں یہ پیشگوئی درج تاریخ ظہور پیشگوئی شائع کیا تھا اور کئی اخباروں میں یہ پیشگوئی بھی شائع ہوئی تھی اور اس کے پورا ہونے پر کئی سو آدمیوں نے جو ہماری جماعت میں سے نہ تھے اور جن میں سے بہت سے ہندو