نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 551 of 822

نزول المسیح — Page 551

179 روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۵۴۷ نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اس وجی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیںجو دنیا پر ظاہر ہوئیں جب عیسائیوں نے آتھم کے نشان کو جو صاف اور روشن تھا اپنے ظلم رویت نمبر ۴۳ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء و ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء پیشگوئی نمبر ۴۳ نزول المسيح تاریخ ظہور پیشگوئی اور افترا سے پوشیدہ کرنا چاہا اور نادان مسلمان بھی ان کے ساتھ مل گئے اور خدا کے بزرگ نشان کو قبول نہ کیا بلکہ بڑا فتنہ برپا کیا اور اس 3 ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ بعد پیشگوئی پوری ہوئی۔ بات کو کسی نے نہ سوچا کہ پیشگوئی کا اصل مدعا تو یہ تھا کہ کاذب صادق کی زندگی میں ہی مرے گا اور وہ وقوع میں آگیا اور نہ یہ سوچا ۔ کہ آتھم نے تو ایک بھری مجلس میں دجال کہنے سے رجوع کر لیا جو اس پیشگوئی کا اصل موجب تھا تو پھر وہ شرط سے کیوں فائدہ نہ اٹھاتا۔ غرض جب خدا کی پیشگوئی کو لوگوں نے مشتبہ کرنا چاہا تو خدا تعالیٰ نے گواہی کے طور پر ایک دوسری پیشگوئی کو ظاہر فرمایا یعنی لیکھرام کی نسبت پیشگوئی جو بہت قوت اور شوکت سے جلالی رنگ میں ظاہر ہوئی۔ پس واضح ہو کہ منجملہ ہیبت ناک اور عظیم الشان نشانوں کے پنڈت لیکھرام کی موت کا نشان ہے جس کی بنیاد پیشگوئی میری کتابیں برکات الدعاء اور کرامات الصادقین اور آئینہ کمالات اسلام ہیں جن میں قبل از وقوع خبر دی گئی کہ لیکھرام قتل کے ذریعہ سے چھ سال کے اندر اس دنیا سے کوچ کرے گا اور وہ عید سے دوسرا دن ہوگا تا یہ صورت اس بات پر دلالت کرے کہ جس دن مسلمانوں کے گھر میں عید ہو گی اس سے دوسرے دن ہندوؤں کے گھر میں ماتم ہوگا اور یہ پیشگوئی نہ صرف میری کتابوں میں درج ہو گئی بلکہ لیکھرام نے خود اپنی کتاب میں نقل کر کے پیشگوئی نمبر ۴۳ کے گواہ لاکھوں ہیں کیونکہ بذریعہ اشتہارات و کتب جن کا حوالہ متن میں آیا ہے۔ اس کو کثرت سے شائع کیا گیا تھا اور لیکھرام نے خود بھی اس کو اپنی کتاب میں ۲ مارچ ۱۸۹۷ء کو یہ پیشگوئی چار سال کے بعد پوری ہوئی۔