نزول المسیح — Page 550
روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۵۴۶ نزول المسيح نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۲ رویت نمبر ۴۲ زنده گواه کے گزرنے کے پیچھے اپنے رجوع پر بھی قائم نہ رہ سکا اور اس کے دل میں وہ خوف نہ رہا جو پندرہ مہینہ کی میعاد کے اندر تھا اور جھوٹ بولا اور کہا کہ میں پیشگوئی سے ہرگز نہیں ڈرا اور جب چار ہزار روپیہ نقد دینے کے وعدہ سے قسم کے لئے بلایا گیا تو قسم بھی نہ کھائی۔ لہذا خدا نے انکار اور اخفاء شہادت اور بے باکی کے بعد ہمارے آخری اشتہار سے سات ماہ کے اندر یعنی پند ژاہ مہینہ کے اندر ہی مار دیا اور ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ اس صورت میں جو پندرہ مہینہ پیشگوئی کے لئے مقرر ہوئے تھے آخر انتم اس دائرہ کے اندر ہی مرا اور پندرہ مہینہ کی میعاد بہر صورت قائم رہی۔ یہ پیشگوئی خدا تعالی کی طرف سے جمالی رنگ میں تھی یعنی رفق اور نرمی کے لباس میں ۔ چونکہ آتھم نے اپنی روش میں نرمی اختیار کی اور اس سخت گندہ زبانی کو اختیار نہ کیا جس کو لیکھرام نے اختیار کیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی اس سے نرمی کا ہی برتاؤ کیا اور اس کو مہلت دینے اور آخر مارنے سے جمالی رنگ کا نشان دکھلایا لیکن لیکھرام نہایت دریدہ دہن اور بد زبان تھا اس لئے خدا نے جلالی رنگ کا نشان اس میں دکھلا دیا اور جب نادانوں اور اندھوں نے اس جمالی نشان کا قدر نہ کیا کہ جو بذریعہ انتم ظاہر ہوا تو خدا نے اس کے بعد لیکھرام کی موت کا نشان جو ہیبت ناک اور جلالی تھا ظاہر کر دیا۔ تاریخ ظہور پیشگوئی مفتی محمد صادق صاحب۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب ۔ قاضی ضیاء الدین صاحب۔ مولوی عبداللہ سنوری صاحب ۔ شیخ چراغ علی صاحب وغیرہ اس پیشگوئی کے گواہ ہیں۔