نزول المسیح — Page 467
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۶۳ نزول المسيح پاس آئے گا اور مجھے قبول کرے گا وہ نئے سرے اُس خدا کو دیکھ لے گا جس کی نسبت (۸۵) دوسرے لوگوں کے ہاتھ میں صرف قصے باقی ہیں ۔ میں اُس خدا پر ایمان لایا ہوں جس کو میرے منکر نہیں پہچانتے اور میں بیچ بیچ کہتا ہوں کہ جس پر وہ ایمان لاتے ہیں اُن کے وہ خیالی بت ہیں نہ خدا۔ اسی وجہ سے وہ بت ان کی کچھ مدد نہیں کر سکتے ۔ ان کو کچھ قوت نہیں دے سکتے ۔ ان میں کوئی پاک تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے ۔ ان کے لئے کوئی تائیدی نشان نہیں دکھلا سکتے ۔ اور یادر ہے کہ یہ اندھوں کے بیہودہ شکوک اور شبہات ہیں جو اس وحی الہی کی نسبت ان کے دلوں کو پکڑتے ہیں جو میرے پر نازل ہو رہی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ خدا کا کلام نہ ہو بلکہ انسان کے اپنے دل کے ہی اوہام ہوں مگر ان کو یاد رہے کہ خدا اپنی قدرتوں میں کمزور نہیں وہ یقین دلانے کے لئے ایسے خارق عادت طریقے اختیار کر لیتا ہے کہ انسان جیسے آفتاب کو دیکھ کر پہچان لیتا ہے کہ یہ آفتاب ہے ایسا ہی خدا کے کلام کو پہچان لیتا ہے۔ کیا ان کا یہ خیال ہے کہ آدم سے لے کر آنحضرت تک خدا تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ اپنی پاک وحی کے ذریعہ سے حق کے طالبوں کو سر چشمہ یقین تک پہنچا وے مگر پھر بعد اس کے اُس فیضان پر قادر نہ رہا یا قادر تو تھا مگر دانستہ اس امت غیر مرحومہ کے ساتھ بخل کیا اور اس دعا کو بھول گیا جو آپ ہی سکھلائی تھی ۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اگر مجھ سے سوال کیا جاوے کہ تم نے کیونکر پہچانا اور یقین کیا کہ وہ کلمات جو تمہاری زبان پر جاری کئے جاتے ہیں وہ خدا کا کلام ہے حدیث النفس یا شیطانی القاء نہیں تو میری روح اس سوال کا مندرجہ ذیل جواب دیتی ہے:۔ (۱) اول جو کلام مجھ پر نازل ہوتا ہے اس کے ساتھ ایک شوکت اور لذت اور تاخیر ہے۔ وہ ایک فولادی شیخ کی طرح میرے دل کے اندر دھنس جاتا ہے اور تاریکی کو دور کرتا ہے اور اس کے ورود سے مجھے ایک نہایت لطیف لذت آتی ہے ۔ کاش اگر میں قادر ہوسکتا تو میں اس کو بیان کرتا۔ مگر روحانی لذتیں ہوں خواہ جسمانی ان کی کیفیات کا پورا نقشہ کھینچ کر الفاتحة: ٧،٦