نزول المسیح — Page 463
۴۵۹ نزول المسيح روحانی خزائن جلد ۱۸ ( أَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأَتُوا الزَّكُوةَ ) کے سننے سے کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں نبی ورسول ہوں ۸۱ اور نئی نماز و زکوۃ کا حکم میرے پر نازل ہوا ہے ہرگز نہیں۔ اگر یہ نہیں کر سکتا تو پھر آیت ارسل رَسُوله بالهدی " کے الہام ہونے سے بروزی رسالت کو (رسول) کے لفظ سے کس طرح مراد لے سکتا ہے۔بینوا وانصفوا ۔ الغرض بر تقدر تسلیم الہام بآیت مذکورہ کا دیانی کو استحقاق (رسول) کہلوانے کا ہرگز نہیں پہنچتا۔ بفرض محال اگر آیت مذکورہ کے سننے سے (رسول) کہلوانے کے مستحق بنیں تو اُسی معنے سے رسول ہوں گے جو معنے آیت مذکورہ میں مراد ہے یعنی رسول اصلی ورنہ دلیل دعوی پر منطبق نہ ہوگی کیونکہ دعوی میں رسول خلقی اور دلیل یعنی (ارسل رسوله ) میں رسول اصلی مع بہیں تفاوت راه از کجاست تا به کجا * اور نیز (رسولہ) سے رسول فلمی مراد لینے کی تقدیر پر تحریف معنوی کلام الہی میں لازم آوے گی۔ لہذا استدلال بآیت مسطورہ بلند آواز سے پکار رہا ہے کہ کادیانی رسول اصلی ہونے کا مدعی ہے۔ چنانچہ اس کا لالکار کر کہلوانا بھی اس پر شاہد ہے۔ کیونکہ صرف فنافی الرسول ہونا اس کا مقتضی نہیں۔ پھر اسی اشتہار میں متصل عبارت منقولہ بالا کے لکھتے ہیں ۔ " پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے ۔ جری اللہ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں ۔ دیکھو بر امین صفحه ۵۰۴ الجواب اول یہ وسوسہ پیر جی کا کہ کیوں یہ تمہاری وحی از قبیل اضغاث احلام اور حدیث النفس نہیں ہے۔ اپنی غلطیوں کی حتی المقدور اصلاح کرتا مگر یہ سوال کہ اس قدر جلد تر کیوں موت آگئی اس کا جواب یہی ہے کہ اس موت کی تین وجہ ہیں۔ اول تو یہی کہ اس نے ان نوٹوں میں اپنے منہ سے موت مانگی اور اپنے ہاتھ سے کتاب پر لکھا کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ چنانچہ جن نوٹوں میں اُس نے فریق کا ذب خدا کی وحی پر یہ دلیل پیش کرنا قیاس مع الفاروق ہے۔ وہ اپنی کلام میں ہر ایک اختیار رکھتا ہے۔ اُس نے رسول کا لفظ اُن رسولوں کے لئے بھی استعمال کیا ہے کہ جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت کمتر تھے اور آپ کے لئے بھی جو سب سے افضل بلکہ سب کے لئے بطور انعل کے ہیں وہی رسول کا لفظ استعمال ہوا اور آیات کے معنوں میں تحریف وہ ہے جو انسان کرے نہ کہ جو خود خدا ایک آیت کے دوسرے معنے کرے وہ بھی تحریف ہے۔ من المؤلّف المزمل : ٢١ الفتح : ٢٩