نزول المسیح — Page 461
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۵۷ نزول المسيح اقول۔ یہ آیت سورہ فتح کے رکوع اخیر میں موجود ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت (۷۹) اور آپ کے دین پاک کے غالب کر دینے کا ذکر ہے کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ اگر کسی شخص کو خواب میں یا بیداری میں آیت مذکورہ سنائی دے جیسا کہ اکثر حفاظ اور شاغلین کو کثرت استعمال و خیال کے سبب سے ایسا ہوا کرتا ہے۔ فرض کیا بذریعہ الہام ہی سہی۔ تو کیا وہ شخص بشہادت اس آیت کے رسول کہلوانے کا مجاز بہت جلدی منگا کر روانہ فرماویں کیونکہ لڑکا صرف ایک ماہ کی رخصت پر گھر میں آیا ہے۔ اس عرصہ کے انقضاء پر اس نے کتاب لاہور لے جانی ہے اور پھر کتاب کا ملنا متعذ رہو جائے گا۔ چکوال سے تلاش کریں شاید نسخہیل جاوے تو حامل عریضہ کے ہاتھ روانہ فرما دیں اور اپنا آدمی بھی ساتھ بھیج دیں تا کہ کتاب لے جاوے۔ امید ہے کہ میری یہ نا چیز خدمت حضرت مرزا صاحب اور آپ کی جماعت قبول فرما کر میرے لئے دعاء خیر فرمائیں گے لیکن میرا التماس ہے کہ میرا نام بالفعل ہرگز ظاہر نہ کیا جاوے تا کہ پھر بھی مجھ سے ایسی مددل سکے۔ مولوی شہاب الدین کی جانب سے السلام علیکم۔ والسلام خاکسار محمد کرم الدین عفی عنہ از بھیں تحصیل چکوال ۳ اگست ۱۹۰۲ء بقیہ حاشیہ پیر مہر علی شاہ کے کارڈ کی نقل جس میں وہ اقرار کرتا ہے کہ کتاب سیف چشتیائی در حقیقت محمد حسن کا مضمون ہے کارڈ مجی مخلصی مولوی کرم الدین صاحب سلامت باشند و علیکم السلام ورحمۃ اللہ ۔ اما بعد یک نسخه بذریعہ ڈاک یا کسے آدم معتبر فرستادہ خواہد شد۔ آپ کو واضح ہو کہ اس کتاب ( سیف چشتیائی) میں تردید متعلق تفسیر فاتحہ (یعنی اعجاز مسیح) جو فیضی صاحب مرحوم و مغفور کی ہے باجازت اُن کے مندرج ہے۔ چنانچہ فیما بین تحریر او نیز مشافۂ جہلم میں قرار پا چکا تھا بلکہ فیضی صاحب مرحوم کی درخواست پر میں نے تحریر جواب نمس بازغہ پر مضامین ضرور یہ لاہور میں اُن کے پاس بھیج دئے تھے اور ان کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنے نام پر طبع کرادیو ہیں۔ افسوس کہ حیات نے وفا نہ کی اور نہ وہ میرے مضامین مرسلہ لا ہور میں مجھے ملے ۔ آخر الامر مجھ کو ہی یہ کام کرنا پڑا۔ لہذا آپ سے ان کی کتابیں مستعملہ منگوا کر تفسیر کی تردید ہیں اگر اجازت سے یہ کام تھا چوری سے نہیں تھا تو کیوں کتاب میں محمد حسن کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اس کی اجازت سے میں نے اس کے مضمون لکھے ہیں اور کیوں جھوٹ بولا گیا کہ یہ میں نے تالیف کی ہے اور کیوں اپنی کتاب میں اس کی کوئی تحریر طبع نہیں کی جس میں ایسی اجازت تھی اور کیوں اُس وقت تک خاموش رہا جب تک کہ خدانے پر دودری کر دی اور چوری پکڑی گئی۔ من المؤلف