نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 458 of 822

نزول المسیح — Page 458

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۵۴ نزول المسيح (۷۶) زندگی سے خلاف خواہش اپنی فوت ہو گیا اُسی کے مضمون کی چوری کی ۔ افسوس کہ اس قدر عظیم الشان معجزہ کے ظاہر ہونے کے بعد بھی پیر مہر علی اپنی شوخی سے باز نہ آیا اور وہ شخص جو اپنے مباہلہ کے اثر سے مر گیا اُسی کے پلید مال کی چوری کی۔ اب ہم بعض دوسرے اعتراضات اور شبہات پیر مہر علی شاہ صاحب کے جو درحقیقت محمد حسن متوفی کے ہیں مع جواب ذیل میں درج کرتے ہیں اور ناظرین سے امیدوار ہیں کہ وہ انصافا گواہی دیں کہ کیا بقیہ حاشیہ ہے اور کچھ شیرینی بھی عنایت کی ہے اور اُس وقت میرے دل میں دو باتیں تھیں جن کو آپ نے بیان کر دیا ہے اور اسی خواب کے عالم میں میں یہ کہتا تھا کہ آپ کے کشف کا تو میں قائل ہو گیا ہوں ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بعض باتوں کی سمجھ بھی نہیں آتی ہے اس واسطے میرا خیال ابھی تک جناب کی نسبت یک رمحہ نہیں ہے گو آپ کے صلاح و تورع کا میں قائل ہوں ۔ میں نے اگلے روز آپ کی کتاب سرمہ چشم آریہ کی ابتدا میں چند اشعار فارسی اور چند اُردو پڑھے ہیں اور وہ پڑھ کر مجھے رونا آتا تھا اور کہتا تھا کہ کذابوں کی کلام میں کبھی بھی ایسا درد نہیں ہوتا ۔ کل میرے عزیز دوست میاں شہاب الدین طالب علم کے ذریعہ سے مجھے ایک خط رجسٹری شده جناب مولوی عبد الکریم صاحب کی طرف سے ملا جس میں پیر صاحب گولڑی کی سیف چشتیائی کی نسبت ذکر تھا۔ یہاں شہاب الدین کو خاکسار نے بھی اس امر کی اطلاع دی تھی کہ پیر صاحب کی کتاب میں اکثر حصہ مولوی محمد حسن صاحب مرحوم کے اُن نوٹوں کا ہے جو مرحوم نے کتاب اعجاز اسیج اور شمس بازنہ کے حواشی پر اپنے خیالات لکھے تھے وہ دونوں کتابیں پیر صاحب نے مجھ سے منگوائی تھیں اور اب واپس آگئی ہیں ۔ مقابلہ کرنے سے وہ نوٹ باصلہ درج کتاب پائے گئے یہ ایک نہایت سارقانہ کارروائی ہے کہ ایک فوت شدہ شخص کے خیالات لکھ کر اپنی طرف منسوب کر لئے اور اس کا نام تک نہ لیا۔ اور طرفه یه که بعض وہ عیوب جو آپ کی کلام کی نسبت وہ پکڑتے ہیں ۔ پیر صاحب کی کتاب میں خود اس کی نظیریں موجود ہیں۔ وہ دونوں کتابیں چونکہ مولوی محمد حسن صاحب