نزول المسیح — Page 457
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۵۳ نزول المسيح تو اُس نے میری کتاب کے حاشیہ پر مباہلہ کی دعا لکھی یعنی یہ کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے اُس کے لئے خدا تعالیٰ کی لعنت * اور اُس کا قہر مانگا اور اب تک وہ دعاء مباہلہ کتاب کے حاشیہ پر خاص اُس کی قلم سے درج ہے چنانچہ فی الفور دعا قبول ہوگئی اور بعد اس کے وہ ایک سخت بیماری اور سرسام میں مبتلا ہو کر چند روز میں ہی قبر میں جا پڑا اور کتاب کے چھپنے کی نوبت نہ آئی۔ وہی مضمون اُس کا پیر مہر علی نے اپنے نام سے چھپوایا اور جس پر حسب درخواست اُس کی جو مباہلہ کے رنگ میں تھی خدا کا قہر گرا یعنی اپنی عزیز کرم الدین صاحب کو لکھا ہے ۔ غرض گولڑی نے محمد حسن کے والد کو بہت تاکید کی ہے ان کو کتا میں مت دکھاؤ یعنی اس راقم خاکسار کو ۔ گولڑی کارڈ میں لکھتا ہے کہ محمد حسن کی اجازت سے لکھا گیا مگر یہ اعتراف راستبازی کے تقاضا سے نہیں بلکہ اس لئے کہ یہ بھید ہم پر کھل گیا اس لئے ناچار شرمندہ ہو کر اقراری ہوا۔ دوسرے خط میں گولڑی کا کارڈ ہے جو اُس نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر روانہ کیا ہے خاکسار شہاب الدین از مقام بھیں بقیہ حاشیہ ملاحظہ ہو۔ مولوی کرم الدین کے خط کی نقل مکرمنا حضرت اقدس مرزا صاحب جی مدظلہ العالی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ۔ میں ایک عرصہ سے آپ کی کتابیں دیکھا کرتا ہوں مجھے آپ کے کلام سے تعشق ہے ۔ میں نے کئی دفعہ عالم رؤیا میں بھی آپ کی نسبت اچھے واقعات دیکھے ہیں اکثر آپ کے مخالفین سے بھی جھگڑا کرتا ہوں ۔ اگر چہ مجھے ابھی تک جناب سے سلسلہ پیری مریدی نہیں ہے کیونکہ اس بارے میں میرے خیال میں بہت احتیاط درکار ہے جب تک بالمشافہ اطمینان نہ کیا جاوے بیعت کرنا مناسب نہیں ہوتا لیکن تاہم مجھے جناب سے غائبانہ محبت ہے میں نے چار پانچ یوم کا عرصہ ہوا ہے کہ جناب کو خواب میں دیکھا ہے آپ نے مجھے مبارکباد فرمائی اسلام میں لعنت اللہ علی الکاذبین کہنا ایک بددعا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ جو شخص کا ذب ہے وہ خدا کی رحمت سے نومید ہو اور اُس کے قہر کے نیچے آ جائے۔ اسی لئے قرآن شریف میں ایسے مردوں یا ایسی عورتوں کے لئے جن پر مجرم ہونے کا شبہ ہو اور اُن پر اور کوئی گواہ نہ ہو جس کی گواہی سے سزا دی جائے ۔ ایسی قسم رکھی ہے جو مؤ کہ بہ لعنت ہوتا اس کا نتیجہ وہ ہو جو گواہ کے بیان کا نتیجہ ہوتا ہے یعنی سزا اور قہر الہی ۔ منہ