نزول المسیح — Page 453
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۴۹ نزول المسيح ہونگے تو پھر بلاشبہ ہمارا یہ دعویٰ باطل ہو جائے گا کہ اعجازی طاقت جو انشاء پردازی اور نظم اے اور نثر میں ہے یہ بھی خدا کا ایک نشان ہے جو ہمارے مسیح موعود ہونے پر ایک گواہ ہے بلکہ ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر حلفی وعدہ کرتے ہیں کہ اگر اس عرصہ میں اسی تعداد کے لحاظ سے انہیں مضامین کی یابندی سے ان کے اشعار مقرر کردہ منصفوں کی شہادت سے جو اہل علم ہوں گے ہمارے اشعار سے فصاحت بلاغت کے رُو سے بہتر ثابت ہوں تو دونوں مخاطبین کو ایک کتاب کے جواب کا ارادہ کرے گا وہی نامرادر ہے گا۔سواس سے زیادہ کیا نامرادی ہے کہ وہ اپنی لغو کتاب کو چھاپ ہی نہ سکا اور مر گیا اور پھر اس کے مردار کو چرا کر پیر مہر علی نے اپنی کتاب میں کھایا اور وہ بھی نامراد رہا کیونکہ مہر علی کی غرض یہ تھی کہ اس کتاب کے لکھنے سے اپنی مشخت ظاہر کرے کہ میں بھی عربی خوان ہوں اور ادیب ہوں مگر بجائے ناموری کے اس کا چور ہونا ثابت ہوا۔ کون اس سے تعجب نہیں کرے گا کہ چور بھی ایسا دلیر چور نکلا کہ مردہ کی ساری کتاب کو نگل گیا اور ڈکار نہ لیا اور محمد حسن بد قسمت کا ایک دفعہ بھی ذکر نہ کیا۔ اور ایک دوسرا نشان یہ ہے کہ اس کتاب انجاز امسیح کے صفحہ 199 میں میں نے یہ دعا کی تھی بقیہ حاشیہ رب ان كنت تعلم ان اعدائى هم الصادقون المخلصون فاهلكني كما تهلك الكذابون۔ وان كنت تعلم انى منک و من حضرتک فقم لنصرتی۔ ترجمہ۔ یعنی اے میرے خدا اگر تو جانتا ہے کہ میرے دشمن بچے ہیں اور مخلص ہیں پس تو مجھے ہلاک کر جیسا کہ تو جھوٹوں کو ہلاک کرتا ہے اور اگر تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے ہوں تو دشمن کے مقابل پر میری مدد کرنے کے لئے تو کھڑا ہو جا۔ پس صاف ظاہر ہے کہ اس کتاب اعجاز امسیح کے شائع ہونے کے بعد محمد حسن بھیں مقابلہ کے لئے میدان میں نکالا۔ اس لئے بموجب اس مباہلہ کی دعا کے مارا گیا۔