نزول المسیح — Page 449
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۴۵ نزول المسيح (۱۷) کرتا بھی مشکل ہوتا ہے اور اگر کیا تو یہ کیا کہ دو چار فقرے دو سو صفحہ کی کتاب میں سے پیش کر دیئے کہ یہ مقامات حریری وغیرہ کے چند فقرات کا سرقہ ہے اور صرف ایک یا دوسہو کا تب کو صرفی نحوی غلطی قرار دے دیا اور اپنی جہالت سے بعض بلیغ اور صحیح ترکیبوں کو یونہی غیر فصیح اور غلط سمجھ لیا ہے ۔ یہ ہیں گدی نشین اس ملک کے جنہوں نے خواہ مخواہ مولویت کا دم بھر کر ہمیشہ کے لئے ایک سیاہ داغ اپنے چہرے پر لگا لیا مگر چونکہ پیر مہر علی صاحب نے مجھے مفتری حاشیہ:۔ میں نے ابھی اسی قدر مضمون لکھا تھا کہ مجھے آج ۲۶ / جولائی ۱۹۰۲ء کو موضع بھیں سے میاں شہاب الدین دوست مولوی محمد حسن بھیں کا خط ملا جس میں انہوں نے تحریر کیا ہے کہ میں پیر مہر علی شاہ کی کتاب دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں اتفاقاً ایک آدمی مجھ کو ملا جس کے پاس کچھ کتابیں تھیں اور وہ مولوی محمد حسن کے گھر کا پتہ پوچھتا تھا اور استفسار پر اُس نے بیان کیا کہ محمد حسن کی کتابیں پیر صاحب نے منگوائی تھیں اور اب واپس دینے آیا ہوں میں نے وہ کتا ہیں جب دیکھیں تو ایک اُن میں اعجاز امسیح تھی جس پر محمد حسن متوفی نے اپنے ہاتھ سے نوٹ لکھے ہوئے تھے۔ اور ایک کتاب شمس باز نہ تھی اور اُس پر بھی محمد حسن مذکور کے نوٹ لکھے ہوئے تھے اور اتفاقا اُس وقت کتاب سیف چشتیائی میرے پاس موجود تھی جب میں نے ان نوٹوں کا اس کتاب سے مقابلہ کیا تو جو کچھ محمد حسن نے لکھا تھا بلفظها بغیر کسی تصرف کے پیر مہر علی نے بطور سرقہ اپنی کتاب میں اس کو نقل کر لیا تھا بلکہ بہ تبدیل الفاظ یوں کہنا چاہیے کہ پیر مہر علی شاہ کی کتاب وہی مسروقہ نوٹ ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ پس مجھ کو اس خیانت اور سرقہ سے سخت حیرت ہوئی کہ کس طرح اُس نے ان تمام نوٹوں کو اپنی طرف منسوب کر دیا۔ یہ ایسی کارروائی تھی کہ اگر مہر علی کو کچھ شرم ہوتی تو اس قسم کے سرقہ کا راز کھلنے سے مرجاتا نہ کہ شوخی اور ترک حیا سے اب تک دوسرے شخص کی تالیف کو جس میں اُس کی جان گئی اپنی طرف منسوب کرتا اور اس بد قسمت مُردہ کی تحریر کی طرف ایک ذرہ بھی اشارہ نہ کرتا اور پھر بعد اس کے میاں شہاب الدین