نزول المسیح — Page 447
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۴۳ نزول المسيح تو بمقابلہ ساڑھے باراں جو کی کتاب کے ایک مجد بھی نہ لکھ سکے اور اتنی ضخیم کتاب میں سے دو چار فقرے ۲۵ پیش کر دئے کہ یہ فلاں کتاب میں موجود ہیں۔ اب سوچو کہ یہ کس قدر کمینگی ہے۔ کیا کوئی اہل ادب اس کو پسند کرے گا۔ ادیب جانتے ہیں کہ ہزار ہا فقرات میں سے اگر دو چار فقرات بطور اقتباس ہوں تو اُن سے بلاغت کی طاقت میں کچھ فرق نہیں آتا بلکہ اس طرح کے تصرفات بھی ایک طاقت ہے۔ دیکھو سبعہ معلقہ کے دوشاعروں کا ایک مصرعہ پر توارد ہے اور وہ یہ ہے۔ ایک شاعر کہتا ہے يقولون لا تهلک اسی و تجمل اور دوسرا شاعر کہتا ہے یقولون لا تهلک اسی و تجلد اب بتلاؤ کہ ان دونوں میں سے چور کون قرار دیا جائے۔ نادان انسان کو اگر یہ بھی اجازت دی جاوے کہ وہ چُرا کر ہی کچھ لکھے تب بھی وہ لکھنے پر قادرنہیں ہوسکتا کیونکہ اصلی طاقت اُس کے اندر نہیں مگر وہ شخص جو مسلسل اور بے روک آمد پر قادر ہے اس کا تو بہر حال یہ معجزہ ہے کہ امور عالمیہ اور حکمیہ اور معارف حقائق کو بلا توقف رنگین اور بلیغ فصیح عبارتوں میں بیان کر دے گوگل پر چسپاں ہو کر دس ہزار فقرات بھی کسی غیر کی عبارتوں کا اُس کی تحریر میں آ جائے کیا ہر یک نادان غیبی بلید ایسا کر سکتا ہے اور اگر کر سکتا ہے تو کیا وجه که با وجود اتنی مدت مدید گزرنے کے پیر مہر علی شاہ صاحب کتاب اعجاز المسیح کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو سکے اور نہایت کار کام یہ کیا کہ دو سو صفحہ کی کتاب میں سے کہ جو چار ہزار سطر اور ساڑھے باراں مجد ہے ایسے دو چار فقرے پیش کر دئے کہ وہ جلد بعض امثلہ مشہورہ سے یا مقامات وغیرہ کے بعض فقرات سے تو ار د ر کھتے ہیں یا مشابہ ہیں بھلا بتلاؤ کہ اس میں انہوں نے اپنا کمال کیا دیکھلا یا۔ ایک منصف انسان سمجھ سکتا ہے کہ جس شخص نے اتنی مدت تک موقعہ پا کر اپنے گوشہ خلوت میں دو چار ورق تک بھی اعجاز مسیح کا نمونہ پیش نہیں کیا تو وہ لاہور کے مقابلہ پر اگر اتفاق ہوتا کیا لکھ سکتا تھا۔ وہ پیر فرتوت یہ چند فقرے بھی بطور نکتہ چینی آپ پیش نہیں کر سکا بلکہ بد قسمت محمد حسن کے نوٹوں کو چرا کر لکھ دیا جو مباہلہ کر کے ایسی نکتہ چینی کی حالت میں مر گیا چنانچہ مفصل ذکر اس کا عنقریب آئے گا۔ منہ