نزول المسیح — Page 433
روحانی خزائن جلد ۱۸ بقیہ حاشیہ ۴۲۹ کتاب سیف چشتیائی نزول المسيح یہ کتاب مجھ کو کیم جولائی ۱۹۰۲ء کو بذریعہ ڈاک ملی ہے جس کو پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے شاید اس غرض سے بھیجا ہے کہ تا وہ اس بات سے اطلاع دیں کہ انہوں نے میری کتاب اعجاز مسیح اور نیز بٹس بازند کا جواب دیکھ کر سمجھ بھی لیا کہ یہ حسین یا پنجتن پاک میرے سے چھ ہزار سال بعد پیدا ہوں گے کس نے ﴿۵﴾ اُن کے دل میں القاء کیا اور القاء کرنے کا ذکر قرآن میں کہاں ہے قرآن مجید میں تو صاف ہے اور ایک لطیف بیان اپنے اندر رکھتا ہے۔ دیکھو جہاں اسماء کی تعلیم کا ذکر ہے۔ وہاں اللہ جل شانہ نے صاف فرمایا ہے کہ وَعَلَمَادَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا فَقَالَ انْتُونِي بِأَسْمَاءِ هؤلاء " قَالَ يَا دَمُ اللتُهُمْ بِأَسْمَا بِهِمْ فَلَمَّا النَّاهُمْ بِأَسْمَابِهِمْ کے مگر اس جگہ تو فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمت صاف ہے۔ دوسرے موقعہ پر یعنی حضرت آدم کے قصہ میں قرآن شریف نے کلمات کی تفسیر کر دی ہے۔ سورۃ اعراف رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا الخ اب جس کی تصریح خود قرآن کریم نے کر دی ہو نہ کنا می اور اشارہ سے بلکہ صاف الفاظ میں، اور کچھ ابہام اور شک بھی باقی نہ رہتا ہو، پھر ایسے معقول استدلال قرآنی کو چھوڑ کر آپ کے یا برغانی کے زعم کی پیروی کون عقلمند کر سکتا ہے۔ (میاں) سید علی ہمدانی اور طبرانی نے لکھا ہے اپنی اپنی کتابوں میں ۔ اے مدعی علم وتحقیق کیا یہ لوگ معصوم تھے کہ جو کچھ انہوں نے اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے واجب الاخذ ہے یا اُن پر وحی نازل ہوتی تھی یا حضرت آدم خواب میں آکر ان کو بتلا گئے تھے کہ ابتلا کے وقت میں نے یہ نام لئے تھے ۔ (أ كنتم شهداء ام على الله تفترون) وہ سینکڑوں سالوں کے بعد زمانہ میں ہو کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ایسا فرمایا ہے اور منقولی روایت جس کی صحت کا کوئی معیار اُن کے پاس نہیں اپنی اپنی کتابوں میں درج کردی۔ البقرة : ٣٢ ٢ البقرة :٣٢ البقرة : ٣٤: ٢ البقرة ۳۸ ۵ الاعراف :۲۴