نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 822

نزول المسیح — Page 428

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۲۴ نزول المسيح زید ہی اچھا رہا جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا کہنا قرآن شریف کے نص صریح کے برخلاف ہے جیسا کہ آیت مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ سے سمجھا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رجال میں سے تھے عورتوں میں سے تو نہیں تھے حق تو (۴۶) یہ ہے کہ اس آیت نے اس تعلق کو جو امام حسین کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بوجہ پسر دختر ہونے کے تھا نہایت ہی نا چیز کر دیا ہے تو پھر اس قدر ان کو آسمان پر چڑھانا کہ وہ جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہیں۔ یہ قرآن شریف پر بھی تقدم ہے ہر ایک کو فضیلت وہ دینی چاہیے کہ قرآن سے ثابت ہے قرآن تو ان کی ابنیت کی بھی نفی کرتا ہے مگر یہاں حضرات شیعہ تمام انبیاء کا انہیں کو شفیع ٹھہراتے ہیں یہ کیسی فضولی ہے یہ قول کس قدر حیا سے دُور ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام امام حسین کے ہی طفیلی ہیں اگر وہ نہ ہوتے تو تمام نبیوں کا نجات پانا مشکل بلکہ غیر ممکن تھا۔ ہائے افسوس کہاں ہے اسلام ان لوگوں کا جو عیسائیوں کی طرح حسین کی خاطر اس رسول پر بھی زبان دراز کر رہے ہیں جو ۴۶ بقیہ حاشیہ اور ضال لکھنا اور جس قدر الفاظ نا شائستہ لغت کی کتابوں میں درج ہیں اپنی تحریر کو ان سے مزین کرنا علم اور شرافت کو بٹالگانا ہے۔ علما اور باقی کا کام یہ ہے کہ دلیل اور بُرہان سے اپنے عندیات کو قوت دیں۔ پھر انصاف پسند طبائع پر اُن کی معقولیت ظاہر کریں۔ ناظرین حق اور باطل میں خود تمیز رکھیں گے۔ اب میں جناب مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ جناب من آپ کا مخاطب ایک مدعی امامت ہے اگر چہ آپ اُس کو کا ذب اور مفتری جانتے ہیں۔ پس اُس کے مسلمات سے اُسے ساکت کرنا لازم ہے۔ تفسیر برغانی اور طبرانی ابو نعیم وغیرہ کا حوالہ دینا یا اُن کی روایات غیر مصحہ پیش کرنا ایک مدعی امامت کے بالمقابل جس کا دعوی ہو کہ میں حکم ہو کر قرآن مجید اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت قائم کرنے کے لئے دنیا میں آیا ہوں اپنے اوپر جہالت کا الزام قائم کرنے سے زیادہ نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ وہ نہ حنفی ہے نہ شافعی نہ مالکی نہ حنبلی اور نہ جعفری نہ مقلد نہ اہل حدیث۔ پھر آپ حنفیوں یا شافعیوں یا مالکیوں وغیرہ کے علماء یا مفسرین کے اقوال پیش کر کے اس کو ملزم کیونکر کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ان اقوال کا پابند ہو تو منصب امامت در حقیقت اس کے لئے سزاوار نہیں ہے وہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں اس وقت کا حکم ہوں برغانی ہو یا طبرانی اُن میں مفسروں کے اپنے عندیات الاحزاب: ۴۱