نزول المسیح — Page 423
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۱۹ نزول المسيح کے وقت میں تھے جو آخر کار طاعون وغیرہ بلاؤں سے ہلاک کئے گئے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ عادت ہے کہ جب ایک قوم کو کسی فعل سے منع کرتا ہے تو ضرور اس کی تقدیر میں یہ ہوتا ہے کہ بعض ان میں سے اس فعل کے ضرور مرتکب ہوں گے جیسا کہ اُس نے توریت میں یہودیوں کو منع کیا تھا کہ تم نے توریت اور دوسری خدا کی کتابوں کی تحریف نہ کرنا۔ سو آخران میں سے بعض نے تحریف کی مگر قرآن میں یہ نہیں کہا گیا کہ تم نے قرآن کی تحریف نہ کرنا بلکہ یہ کہا گیا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ - سوسورة فاتحہ میں خدا نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الظَّالِينَ ۔ اس جگہ احادیث صحیحہ کے رُو سے بکمال تواتر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ المغضوب عليهم سے مراد بد کار اور فاسق یہودی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کو کا فرقرار دیا اور قتل کے درپے رہے اور اُس کی سخت توہین و تحقیر کی اور جن پر حضرت عیسی نے لعنت بھیجی جیسا کہ قرآن شریف میں مذکور ہے اور الضالین سے مراد عیسائیوں کا وہ گمراہ فرقہ ہے جنہوں نے حضرت عیسی کو خدا سمجھ لیا اور تثلیث کے قائل ہوئے اور خون بسیج پر نجات کا حصر رکھا اور ان کو زندہ خدا کے عرش پر بیٹھا دیا۔ اب اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ خدایا ایسا فضل کر کہ ہم نہ تو وہ یہودی بن جائیں جنہوں نے مسیح کو کا فرقرار دیا تھا اور ان کے قتل کے درپے ہوئے تھے اور نہ ہم صیح کو خدا قرارد میں اور تثلیث کے قائل ہوں چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں اسی اُمت میں سے مسیح موعود آئے گا اور بعض یہودی صفت مسلمانوں میں سے اس کو کا فرقرار دیں گے اور قتل کے درپے ہوں گے اور اس کی سخت تو ہین وتحقیر کریں گے اور نیز جانتا تھا کہ اس زمانہ میں تثلیث کا مذہب ترقی پر ہوگا اور بہت سے بدقسمت انسان عیسائی ہو جائیں گے اس لئے اُس نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی اور اس دعا میں مَغْضُوب علیھم کا جو لفظ ہے وہ بلند آواز سے کہہ رہا ہے کہ وہ لوگ جو اسلامی (۲۲) مسیح کی مخالفت کریں گے وہ بھی خدا تعالیٰ کی نظر میں مغضوب علیہم ہوں گے جیسا کہ اسرائیلی مسیح کے مخالف مغضوب علیہم تھے اور حضرت مسیح خود انجیل میں اشارہ کرتے ہیں کہ میرے منکروں پر مری الحجر :١٠ ٣ الفاتحة :-