نزول المسیح — Page 422
روحانی خزائن جلد ۱۸ ΓΙΑ نزول المسيح که خود قرآن شریف نے اپنے دوسرے مقام میں دابۃ الارض کے معنے کیڑا کیا ہے۔ سو قرآن کے برخلاف اس کے اور معنی کرنا یہی تحریف اور الحاد اور دجل ہے۔ (۳) تیسرا قرینہ یہ ہے کہ آیت میں صریح معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نشانوں کی تکذیب کے وقت میں کوئی امام الوقت موجود ہونا چاہیے کیونکہ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ کا فقرہ یہی چاہتا ہے کہ اتمام حجت کے بعد یہ عذاب ہو اور یہ تو متفق علیہ عقیدہ ہے کہ خروج دابة الارض آخری زمانہ میں ہوگا جبکہ مسیح موعود ظاہر ہوگا تا کہ خدا کی حجت دنیا پر پوری کرے۔ پس ایک منصف کو یہ بات جلد تر سمجھ آ سکتی ہے کہ جبکہ ایک شخص موجود ہے جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور آسمان اور زمین میں بہت سے نشان اس کے ظاہر ہو چکے ہیں تو اب بلا شبہ دابة الارض یہی طاعون ہے جس کا مسیح کے زمانہ میں ظاہر ہونا ضروری تھا اور چونکہ یا جوج ماجوج موجود ہے اور مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ لے کی پیشگوئی تمام دنیا میں پوری ہورہی ہے اور دجالی فتنے بھی انتہا تک پہنچ گئے ہیں اور پیشگوئی یترکن القلاص فلا يُسعى عليها بھی بخوبی ظاہر ہو چکی ہے اور شراب اور زنا اور جھوٹ کی بھی کثرت ہو گئی ہے اور مسلمانوں میں یہودیت کی فطرت بھی جوش مار رہی ہے تو صرف ایک بات باقی تھی جو دابۃ الارض زمین میں سے نکلے سو وہ بھی نکل آیا۔ اس بات پر جھگڑنا جہالت ہے کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں جگہ پھٹے گی اور دابۃ الارض وہاں سے سر نکالے گا پھر تمام دنیا میں چکر مارے گا کیونکہ اکثر پیشگوئیوں پر استعارات کا رنگ غالب ہوتا ہے جب ایک بات کی حقیقت کھل جائے تو ایسے اوہام باطلہ کے ساتھ حقیقت کو چھوڑ نا کمال جہالت ہے اسی عادت سے بد بخت یہودی قبول حق سے محروم رہ گئے ۔ (۴) قرینہ چہارم دابۃ الارض کے طاعون ہونے پر یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں ایک رنگ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ کسی وقت بعض مسلمان بھی وہ یہودی بن جائیں گے جو حضرت عیسی علیہ السلام الانبياء : ۹۷