نزول المسیح — Page 421
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۱۷ نزول المسيح میں ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ انسان کو ایسا ہی ہر ایک جانور کو یہ بیماری ہو سکتی ہے اس لئے کشفی عالم میں اس کی مختلف شکلیں نظر آئیں۔ اور اس بیان پر کہ دابة الارض در حقیقت ماده طاعون کا نام ہے جس سے طاعون پیدا ہوتی ہے مفصلہ ذیل قرائن اور دلائل ہیں۔ (۱) اول یہ کہ دابۃ الارض کے ساتھ عذاب کا ذکر کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةٌ مِنَ الْأَرْضِ لا یعنی جب اُن پر آسمانی نشانوں اور عقلی دلائل کے ساتھ حجت پوری ہو جائے گی تب دابة الارض زمین میں سے نکالا جائے گا۔ اب ظاہر ہے کہ دابة الارض عذاب کے موقعہ پر زمین سے نکالا جائے گا نہ یہ کہ یوں ہی بیہودہ طور پر ظاہر ہو گا جس کا نہ کچھ نفع نہ نقصان ۔ اور اگر کہو کہ طاعون تو ایک مرض ہے مگر دابة الارض لغوى معنوں کے رُو سے ایک کیڑا ہونا چاہیے جو زمین میں سے نکلے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حال کی تحقیقات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ طاعون کو پیدا کرنے والا وہی ایک کیڑا ہے جو زمین میں سے نکلتا ہے بلکہ ٹیکا لگانے کے لئے وہی کیڑے جمع کئے جاتے ہیں اور اُن کا عرق نکالا جاتا ہے اور خوردبین سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کی شکل یوں ہے (۲۰) یعنی بہ شکل دو نقطہ ۔ گویا آسمان پر بھی نشان کسوف خسوف دو کے رنگ میں ظاہر ہوا اور ایسا ہی زمین میں۔ (۲) دوسرا قرینہ یہ ہے کہ قرآن شریف کے بعض مقامات بعض کی تفسیر ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں جہاں کہیں یہ مرکب لفظ آیا ہے ۔ اس سے مراد کیٹر ا لیا گیا ہے مثلاً یہ آیت فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ يعنى ہم نے سلیمان پر جب موت کا حکم جاری کیا تو جنات کو کسی نے ان کے مرنے کا پتہ نہ دیا مگر گن کے کیڑے نے کہ (۴۰) جو سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا۔ سورۃ السبا الجز نمبر۲۔ اب دیکھو اس جگہ بھی ایک کیڑے کا نام دابۃ الارض رکھا گیا بس اس سے زیادہ دابۃ الارض کے اصلی معنوں کی دریافت کے لئے اور کیا شہادت ہوگی النمل : ۸۳ ۲ سبا : ۱۵