نزول المسیح — Page 404
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۰۰ نزول المسيح (۲۲) تجھ پر لعنت کریں گے اور میں تجھ پر برکتیں نازل کروں گا اور وہ تجھ پر ہاب معیشت تنگ کرنا چاہیں گے اور میں تیرے پر تمام نعمتوں کے دروازے کھول دوں گا اور پھر فرمایا کہ بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ سوخدا کے زور آور حملوں میں سے یہ طاعون ہے جو ملک میں پھیل گئی اور نہ معلوم کہ کب تک اس کا دور ہے۔ غرض براہین احمدیہ میں آج سے تیس برس پہلے اس عذاب کی خبر دی گئی ہے بلکہ صفحہ ۵۱۰ براہین احمدیہ میں یہ بھی وحی الہی ہے ولا تخاطبنی في الذين ظلموا انهم مغرقون ۔ یعنی جب عذاب کا وقت آوے تو ظالموں کی میری جناب میں شفاعت مت کر کہ میں اُن کو غرق کروں گا۔ اس الہام کا دوسرا حصہ یہ ہے وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بأَعْيُنِنَا وَوَحينَا ۔ یعنی ہمارے حکم اور ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی تیار کر کشتی سے مراد سلسلہ بیعت ہے جو خاص وحی الہی اور امرالہی سے قائم کیا گیا۔ اور پھر صفحہ ۵۰۶ براهین احمدیه میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہے۔ لم یکن الذين كفروا من اهل الكتاب والمشركين منفكين حتى تاتيهم البينة و كان كيدهم عظیمًا اگر خدا ایسانہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ اس وحی الہی سے بھی ثابت ہے کہ دنیا کو شرک اور کفر اور مخلوق پرستی کی عادت ہو گئی تھی اور وہ کسی آسمانی گوشمالی کی محتاج تھی اور اسی وحی کے ساتھ صفحہ ۵۰۷ میں یہ خدا کا کلام ہے تلطف بالنّاس و ترحم عليهم انت فيهم بمنزلة موسى و اصبر على ما يقولون یعنی لوگوں کے ساتھ رفق اور نرمی کر اور اُن پر رحم کر ۔ تو ان میں بمنزلہ موسی کے ہے اور اُن کی باتوں پر صبر کر ۔ پس اگر چہ حضرت موسیٰ بردباری اور حلم اور تہذیب اخلاق میں تمام بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے اول درجہ پر تھے اور توریت خود ان کے اخلاق فاضلہ کی تعریف کرتی ہے اور ان کو اسرائیلی نبیوں میں سے بے نظیر ٹھہراتی ہے لیکن اُن کے کمال علم کا آخر یہ نتیجہ ہوا کہ جب قوم اسرائیل کے مفسد کسی طرح درست نہ ہوئے تو آخر خدانے موسیٰ اپنے بندہ کی حیات میں ہی اُن کو طاعون سے ہلاک کیا جیسا کہ توریت میں یہ قصہ موجود ہے سو اسی کی طرف یہ اشارہ ہے کہ تو موسیٰ کی طرح صبر کر اور آخر ہماری طرف سے