نزول المسیح — Page 398
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۹۴ نزول المسيح اشتہاروں میں پیسہ اخبار کے نقش قدم پر چلے ہیں۔ بعض نے یہاں تک جھوٹ بولا ہے کہ گو یا ہماری جماعت میں ہی طاعون پھوٹ پڑی ہے اور گویا قادیان میں وہ طاعون پیدا ہوگئی ہے جو طاعون جارف کہلاتی ہے۔ ان کے جواب میں بجز اس کے ہم کیا کہیں کہ لعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ۔ وہ یا درکھیں کہ خدا تعالیٰ کی یہی قدیم سنت ہے کہ جس گاؤں یا شہر میں خدا کی طرف سے کوئی مرسل آتا ہے وہ جگہ نسبتی طور پر دارالامن ہو جاتی ہے اور اس میں وہ بے حواس اور دیوانہ کرنے والی تباہی نہیں پڑتی جس میں لوگ پروانوں کی طرح مرتے ہیں ہاں موت کا درازہ بھی بند نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود یکہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے دارالامان ہونے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں اور قرآن کریم نے بھی اس کی تصدیق کی ہے مگر پھر بھی بعض اوقات انسانی بر داشت تک مکہ معظمہ میں ہیضہ پھوٹ پڑتا ہے اور ایسا ہی مدینہ منورہ میں بھی کئی وارداتیں ہو جاتی ہیں مگر ان وارداتوں سے ان دونوں حرمین شریفین کے دار الامن ہونے میں فرق نہیں آتا۔ اسی طرح ہمیں اس سے انکار نہیں کہ قادیان میں بھی کبھی وہا پڑے یا کسی معمولی حد تک طاعون سے جانوں کا نقصان ہو لیکن یہ ہرگز نہیں ہو گا کہ جیسا کہ قادیان کے اردگرد تباہی ہوئی یہاں تک کہ بعض گاؤں موت کی وجہ سے خالی ہو گئے یہی حالت قادیان پر بھی آوے۔ کیونکہ وہ خدا جو قا در خدا ہے اپنے پاک کلام میں وعدہ کر چکا ہے جو قادیان میں تباہ کرنے والی طاعون نہیں پڑے گی۔ جیسا کہ اُس نے فرمایا لَو لَا الْإِكْرَامُ۔ لَهَلَكَ المَقَامُ۔ یعنی اگر مجھے تمہاری عزت ظاہر کرنا ملحوظ نہ ہوتا تو میں اس مقام کو یعنی قادیان کو طاعون سے فنا کر دیتا یعنی اس گاؤں میں بھی بڑے بڑے خبیث اور شریر اور ناپاک طبع اور کذاب اور مفتری رہتے ہیں اور وہ اس لائق تھے کہ قہر الہی سب کو ہلاک کر دیوے مگر میں ایسا کرنا نہیں چاہتا کیونکہ درمیان میں تمہارا وجود بطور شفیع کے ہے اور تمہارا اکرام مجھے منظور ہے اس لئے میں اس مرتبہ سز ا سے درگز ر کرتا ہوں کہ ایک خوفناک تباہی اور موت ان لوگوں پر ڈال دوں تاہم بکلی بے سزا نہیں چھوڑوں گا اور کسی حد تک وہ بھی عذاب طاعون میں سے حصہ لیں گے تا شریروں کی آنکھیں کھلیں ۔ ماسوا اس کے اگر قادیان میں ایسی طاعون آوے جیسا کہ گردو نواح میں بعض جگہ یہ صورتیں پیدا ہوئیں کہ دیہات میں صد ہا لوگ مرے اور کئی دیہات تباہ ہو گئے اور بہت سے گھر ایسے ہو گئے کہ بجز شیر خوار بچوں کے ان میں کوئی بھی نہ رہا۔