نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 822

نزول المسیح — Page 387

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۸۳ نزول المسيح بقیہ حاشیہ قریب بیعت کرنے والوں کا شمار پہنچ گیا ہے کہ جو نہ میری کوشش سے بلکہ اُس ہوا کی تحریک (0) سے جو آسمان سے چلی ہے میری طرف دوڑے ہیں ۔ اب یہ لوگ خود سوچ لیں کہ اس سلسلہ کے برباد کرنے کے لئے کس قدر انہوں نے زور لگائے اور کیا کچھ ہزار جان کا ہی آئندہ نسلوں کی گذشتہ لوگوں سے مشابہتیں ظاہر ہو جائیں گی۔ چنانچہ بعینہ یہودیوں کی طرح یہودی پیدا ہو جائیں گے اور ایسا ہی نبیوں کا کامل نمونہ بھی ظاہر ہوگا۔ اسی کی طرف سورۃ الانبیاء جز و مہرے امیں اشارہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَحَرِّمُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكُنُهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبِ يُنْسِلُونَ ے ان آیات کا یہ منشاء ہے کہ جولوگ ہلاک کئے گئے اور دنیا سے اُٹھائے گئے اُن پر حرام ہے کہ پھر دنیا میں آویں بلکہ جو گئے سو گئے ۔ ہاں یا جوج و ماجوج کے وقت میں ایک طور سے رجعت ہو گی یعنی گذشتہ لوگ جو مر چکے ہیں، اُن کے ساتھ اس زمانہ کے لوگ ایسی اتم اور اکمل مشابہت پیدا کر لیں گے کہ گویا وہی آگئے ۔ اسی بناء پر اس زمانہ کے علماء کا نام یہود رکھا گیا اور محمدی مسیح کا نام ابن مریم رکھا گیا اور پھر اُسی خاتم الخلفاء کا نام باعتبار ظہور بین صفات محمدیہ کے محمد اور احمد رکھا گیا اور مستعار طور پر رسول اور نبی کہا گیا اور اُسی کو آدم سے لے کر اخیر تک تمام انبیاء کے نام دیئے گئے تا وعدہ رجعت پورا ہو جائے ۔ یہ ایک بار یک دقیقہ معرفت ہے اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ سورۃ فاتحہ سے بھی التزامی طور پر یہ بات نکلتی ہے کہ مسلمانوں میں سے منعم علیہم بھی انبیاء گذشتہ کی طرح ہوں گے اور نیز مغضوب علیہم بھی یعنی یہودی ہوں گے غرض تمام نبیوں کے نزد یک زمانہ یا جوج و ماجوج زمان الرجعت کہلاتا ہے یعنی رجعت بروزی نه رجعت حقیقی ۔ اگر رجعت حقیقی ہو تو پھر سب میں حقیقی چاہیے نہ صرف حضرت عیسی میں ۔ کیا وجہ کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رجعت تو بروزی طور پر مہدی کے لباس میں ہو اور میسی کی رجعت واقعی طور پر ۔ شیعہ کو یہ دھوکا لگا ہے کہ انہوں نے اس زمانہ کو رجعت حقیقی کا زمانہ الانبياء : ۹۷،۹۶