نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 822

نزول المسیح — Page 384

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۸۰ نزول المسيح شروع کر کے حرف یا تک پہنچادیا تھا یعنی ابو بکر سے <mark>یزید</mark> تک مگر یہ لوگ جو اہل حدیث اور حنفی کہلاتے ہیں انہوں نے اس کارروائی کو نا کامل سمجھ کر لعنت بازی کے دائرے کو اس طرح پر پورا کیا کہ جس شخص کو خدا نے آدم سے لے کر یسوع مسیح تک مظہر جمیع انبیاء قرار دیا تھا یعنی الف سے حرف یا تک اور پھر تکمیل دائرہ کی غرض سے الف آدم سے لے کر الف احمد تک صفت مظہریت کا خاتم بنایا تھا اس پر لعنتوں کی مشق کی۔ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ لیکن یا درکھیں کہ یہ گالیاں جو ان کے منہ سے نکلتی ہیں اور یہ تحقیر اور یہ توہین کی باتیں جو اُن کے ہوٹھوں پر چڑھ رہی ہیں اور یہ گندے کا غذ جو حق کے مقابل پر وہ شائع کر رہے ہیں یہ اُن کے لئے ایک رُوحانی عذاب کا سامان ہے جس کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے طیار کیا ہے۔ در ونگوکی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اپنے منصوبوں سے اور اپنے بے بنیاد جھوٹوں سے اور اپنے افتراؤں سے اور اپنی ہنسی ٹھٹھے سے خدا کے ارادے کو روک دیں گے یا دنیا کو دھوکہ دے کر اس کام کو معرض التوا میں ڈال دیں گے جس کا خدا نے آسمان پر ارادہ کیا ہے۔ اگر کبھی پہلے بھی حق کے مخالفوں کو ان طریقوں سے کامیابی ہوئی ہے تو وہ بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن اگر یہ ثابت شدہ امر ہے کہ خدا کے مخالف اور اُس کے ارادہ کے مخالف جو آسمان پر کیا گیا ہو ہمیشہ ذلت اور شکست اُٹھاتے ہیں تو پھر ان لوگوں کے لئے بھی ایک دن ناکامی اور نامرادی اور رسوائی در پیش ہے خدا کا فرمودہ کبھی خطا نہیں گیا اور نہ جائے گا۔ وہ فرماتا ہے:۔ كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِي یعنی خدا نے ابتداء سے لکھ چھوڑا ہے اور اپنا قانون اور اپنی سنت قرار دے دیا ہے کہ وہ اور اُس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے ۔ پس چونکہ میں اُس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے بلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیاء الشعراء : ۲۲۲۸ المجادلة :۲۲