نورالحق حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 512

نورالحق حصہ دوم — Page 209

۲۰۹ نور الحق الحصة الثانية روحانی خزائن جلد ۸ فكما أن لفظ الأوّل يدلّ على أوّل وقت الليلة بالمعنى المعروف، ومع پس جیسا کہ لفظ اول جو حدیث میں ہے معنے معروف کے لحاظ سے اول وقت رات پر دلالت کرتا ہے ذلك عـلـى ليلة أولى من أيام الخسوف فَكَذلِكَ لفظ النصف يدل على اور ساتھ اس کے خسوف کی پہلی رات پر بھی دلالت کرتا ہے۔ سو اسی طرح حدیث میں نصف کا لفظ ہے جو نصف ثان من نصفي الشهر الموصوف، ومع ذلك على وقتٍ منصفِ لأيام دوسرے نصف پر مہینہ کے دو نصفوں میں سے دلالت کرتا ہے اور ساتھ اس کے سورج گرہن کے الكسوف، وهو أوّلُ نصفى النهار في الثامن والعشرين۔ وأما أيام الكسوف سے اس وقت منصف پر دلالت کرتا ہے جس نے کسوف کے دنوں کو اپنے وقوع من مولى علام فاعلم أنها عند أهل النجوم ثلاثة أيام، وهي من السابع نصفا نصف کر دیا اور وہ رمضان کی اٹھائیسویں تاریخ دو پہر تک تھی اور کسوف کے دنوں کی بابت والعشرين من الشهر القمرى إلى التاسع والعشرين، وتنكسف الشمس في اگر سوال ہو تو جاننا چاہیئے کہ اہل نجوم کے نزدیک تین ہیں یعنی ستائیس سے انتیس تاریخ تک اور کسوف یعنی سورج أحد منها عند اقتران القمر على شكل خاص بعد تحقق اختصاص، كما گرہن کسی تاریخ میں ان تاریخوں میں سے اس وقت ہوتا ہے کہ جب شکل خاص پر اقتران قمر ہو جیسا کہ نجومیوں کے شهدت عليه تجارب المنجمين۔ فأخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم خير الأنام تجارب اس پر گواہی دیتے ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی أن الشمس تنكسف عند ظهور المهدى فى النصف من هذه الأيام، يعنى الثامن کہ سورج گرہن مہدی کے ظہور کے وقت ایام کسوف کے نصف میں ہوگا یعنی والعشرين قبل نصف النهار ، وكذلك ظهر كما لا يخفى على أولى الأبصار۔ اٹھائیسویں تاریخ میں دو پہر سے پہلے اور اسی طرح پر ظاہر ہوا جیسا کہ آنکھوں والوں پر پوشیدہ نہیں۔ فانظر كيف تمت كلمة نبينا صدقًا وعدلا، فاتق الله ولا تكن من الممترين۔ پس دیکھ کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کیسی ٹھیک ٹھیک پوری ہوگئی پس خدا سے ڈر اور شک کرنے والوں