نورالحق حصہ دوم — Page 208
۲۰۸ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الثانية ١٨ أفأنت تشك فی حدیث حصحصت صحته وتبينت طهارته أنه ضعيف کیا تو اس حدیث میں شک کرتا ہے جس کا صحیح ہونا کھل گیا اور جس کی پاکیزگی ظاہر ہو گئی ہے کہ وہ في أعين القوم، أو هو مورد اللؤم، أو فى رواته أحــد مـن المطعونين؟ قوم کی نظر میں ضعیف ہے یا وہ ملامت کی جگہ ہے اور یا اس کے راویوں میں سے کون مطعون ہے۔ کیا یہ أفذلك مـقـام الشك أو كنـت مـن الـمـجنونين؟ وقد صدقه الله وأنار مقام شک کا ہے یا تو دیوانوں میں سے ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے اس حدیث کی تصدیق کی ہے الدليل، وبرأ الرواة مما قيل، وأرى نور صدقه أجلى وأصفى، فهل بقى اور راویوں کو الزامات سے بری کیا ہے اور اس حدیث کی سچائی کے نور کمال صفائی اور روشنی سے دکھائے ہیں۔ شک بـعـد إمارات عظمى؟ أتشكون في شمس الضحي؟ أتجعلون النُّورَ پس کیا ایسے بڑے نشانوں کے بعد شک باقی رہ گیا کیا تم چاشت کے سورج میں شک کرتے ہو کیا تم نور کو اندھیرے كالدّجى ؟ أتعاميتم أو كنتم من العمين؟ أتقبلون شهادة الإنسان ولا تقبلون کی طرح ٹھہراتے ہو کیا تم بتکلف نابینا بنتے ہو یا حقیقت میں اندھے ہو کیا تم انسان کی گواہی قبول کرتے ہو شهادة الرحمن وتسعون معتدين؟ أأنت تعتقد أن الله يُظهر على غيبه اور رحمان کی قبول نہیں کرتے اور حد سے بڑھ کر دوڑتے ہو کیا تو اعتقاد رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے غیب پر ایسے الكذابين المفترين المزوّرين؟ أتشك فى الأخبار بعد ظهور صدقها؟ لوگوں کو اطلاع دیتا ہے جو کذاب اور مفتری اور مزور ہیں کیا تو ان خبروں میں شک کرتا ہے جس کا صدق ظاہر ہو گیا وإذا حصحص الصدق فلا يشك إلا من كان من قوم عادين۔ وهذا أمر لا اور جب صدق ظاہر ہو گیا تو صرف وہی لوگ شک کریں گے جو حد سے بڑھتے ہیں۔ اور یہ وہ امر ہے جو يحتاج إلى التوضيح والتعريف، ولا يخفى على الزكي الحنيف، وعلى كل توضیح اور تعریف کا محتاج نہیں اور زیرک مسلمان پر پوشیدہ نہیں رہ سکتا اور نہ اس شخص پر جو من أمعن كالمتدبرين۔ ثم اعلم يا ذا العينين أن لفظ النصف لفظ ذو معنين امعان نظر اور تدبر سے دیکھے۔ پھر اے دو آنکھوں والے جان کہ نصف کا لفظ حدیث میں ذومعنین ہے