نورالحق حصہ اوّل — Page 11
11 روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى التفسيـر مـن بعض الصحابة أن طير عيسى ما كان يطير إلا أمام أعين کرتے ہیں جو بعض صحابہ سے تفسیروں میں بیان ہوئے ہیں اور وہ یہ کہ عیسی کا پرندہ اسی وقت تک پرواز کرتا تھا جب تک کہ الناس، فإذا غاب سقط على الأرض ورجع إلى أصله كعصا موسى، وہ لوگوں کی نظروں کے سامنے رہتا تھا اور جب غائب ہوتا تھا تو گر جاتا تھا اور اپنی اصل کی طرف رجوع کرتا تھا جیسے وكذلك كان إحياء عيسى، فأين الحياة الحقيقي؟ فلأجل ذلك عصا موسیٰ کا اور عیسی کا مردوں کو زندہ کرنا بھی ایسا ہی تھا سو اس جگہ حیات حقیقی کہاں ثابت ہوئی سو اسی لئے اختار الله تعالى فى هذا المقام ألفاظًا تناسب الاستعارات ليشير إلى خدا تعالیٰ نے اس مقام میں وہ لفظ اختیار کئے جو استعارات کے مناسب حال تھے تا کہ اس اعجاز کی طرف اشارہ کرے جو الإعجاز الذي بلغ إلى حدّ المجاز، وذكر مجازًا ليُبيّن إعجازًا، فحمله مجاز کی حد تک پہنچا تھا اور مجاز کو اس لئے ذکر کیا کہ تا ان کے معجزہ کو جو خارق عادت تھا بیان فرمادے پس اس مجاز کو الجاهلون المستعجلون على الحقيقة، وسلكوه مسلكَ خَلْق الله مِن جاہلوں نے حقیقت پر حمل کر دیا اور ایسے مرتبہ میں داخل کیا جو الہی پیدائش کا مرتبہ ہے حالانکہ وہ صرف غير تفاوت، مع أنه كان من نفخ المسيح وتأثير روحه من غير مقارنة نفخ مسیح اور اس کی روح کی تاثیر سے تھا اور اس کے ساتھ کوئی دعا نہیں تھی سو ایسے سمجھنے والے ہلاک ہوئے دعاء، فهلكوا وأهلكوا كثيرا من الجاهلين والقرآن لا يجعل شريكا في اور بہتوں کو جاہلوں میں سے ہلاک کیا۔ اور قرآن تو کسی کو خدا کی خالقیت میں شریک نہیں کرتا اگر چہ ایک خلق الله أحدًا ولو فى ذباب أو بعوضة، بل يقول إنه واحد ذاتا وصفاتا، مکھی بنانے یا ایک مچھر بنانے میں شراکت ہو بلکہ وہ کہتا ہے کہ خدا ذاتاً وصفاتنا واحد لاشریک ہے سوتم قرآن کو فاقرءوا القرآن كالمتد ۔برين۔ فالأمر الذي ثبت عقلاً ونقلا واستدلالا ایسا پڑھو جیسا کہ تدبر کرنے والے پڑھتے ہیں۔ سو جو امر عقلاً و نقلا و استدلالاً ثابت ہو گیا۔ (الفائدة) كان الاحياء بالنفخ كالاماتة بالنظر ) پھونک سے زندہ کرنا ایسا تھا جیسے نظر سے مارنا۔ منہ