نورالحق حصہ اوّل — Page 127
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۲۷ نور الحق الحصة الاولى سُود كخافية الغراب قلوبهم والخلق مخدوعون من لمعانهم ان کے دل ایسے سیاہ ہیں جیسے کوے کے وہ پر جو پیٹھ کی طرف ہوتے ہیں اور خلقت ان کی ظاہری چمک سے دھوکا کھا رہی ہے فارقُبُ إذا صاحبتهم بمحبّة فتنا بدين عند استحسانهم (۹۵) پس جب تو ان کی صحبت اختیار کرے تو تجھے باعث ان کے پسند ر کھنے کے اپنے دین کے فتنوں کا امیدوار رہنا چاہیے ولقد دعوت الرب عند تناضلى والله تُرسى عند ضرب سنانهم اور میں نے اپنے مقابلہ کے وقت اپنے رب کو بلایا اور ان کے نیزوں سے بچنے کے لئے خدا میری ڈھال ہے یا مستعانی لیس دونک ملجأى فانصُرُ وأَيَّدُنا لهدم قنانهم اے میرے مددگار تیرے سوا میری کوئی پناہ نہیں پس مدد کر اور ان کے پہاڑوں کے توڑنے کے لئے ہماری تائید فرما يا من يعيرني بموت إلههم أفلا ترى ما جَذَّ أصل إهانهم اے وہ شخص جو مجھے اس لئے سرزنش کرتا ہے کہ میں ان کے مصنوعی خدا یعنی حضرت عیسی کی موت کا قائل ہوں کیا تو دیکھتا نہیں کہ کس اعتقاد نے ان کی بیجگنی کی ہے والله إن حياة عيسى حيّة تسعى لتُهْلِک كُلَّ مَن في خانهم بخدا حضرت عیسی کی زندگی ایک سانپ ہے وہ سانپ دوڑتا ہے تا ان سب کو قتل کرے جو ان کی سرائے میں ہیں جعل المهيمن حكمةً من عنده في موت عيسى قطع عرقِ جرانهم خدا تعالیٰ نے اس بات میں حکمت رکھی ہے کہ حضرت عیسی کی موت سے ان کا مذہب ذبح کیا جائے كيف الحياة وقد تُوفّى مثله حزب وخير الخلق بعد زمانهم یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسے زندہ ہوں حالانکہ ان سے پہلے جتنے نبی آئے وہ فوت ہو گئے ہیں اور جو سب سے بہتر تھا اور پیچھے سے آیا وہ بھی فوت ہو گیا هل غادر الحتف المفاجئ مرسلًا أم هل سمعت الحى من أقرانهم کیا اچانک پکڑنے والی موت نے کسی رسول کو بھی چھوڑا یا تو نے کبھی سنا کہ ان کے ہم رتبوں میں سے کوئی زندہ رہا أ تغيظ ربَّك لابن مریم حشنةً وتحيـد عـن مولى إلى إنسانهم کیا تو اپنے رب کو ابن مریم کے لئے غصہ دلاتا ہے کیا کچھ کینہ ہے اور مولیٰ کریم سے تو دور ہوکر عیسائیوں کے انسان کی طرف جاتا ہے فاطلُبُ هُداه وما أخالُك تطلبُ فَاخْسَأُ وكُن منهم ومن إخوانهم سوتو اللہ کی ہدایت کو ڈھونڈ اور مجھے امید نہیں کہ تو ڈھونڈے پس دفع ہو اور عیسائیوں میں سے اور ان کے بھائیوں میں سے ہو جا