نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 126

نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ زجاجتهم إلهى بالصفا واعصِمُ عبادك من سموم بيانهم اے خدا پتھروں سے ان کے شیشے کو توڑ دے اور ان کے بیان کی زہر سے اپنے بندوں کو بچا لے سبُّوا نبيك بالعناد وكذبوا خير الورى فانظر إلى عدوانهم | تیرے نبی کو انہوں نے عناد سے گالیاں دیں اور جھٹلایا وہ نبی جو افضل المخلوقات سے ہے سو تو ان کے ظلم کو دیکھ يا ربّ سحقهم كسحقك طاغيًا وَانْزِلُ بساحتهم لهدم مكانهم | اے میرے رب ان کو ایسا نہیں ڈال جیسا کہ تو ایک طاغی کو پیتا ہے اور ان کی عمارتوں کو مسمار کرنے کے لئے ان کے صحن خانہ میں اتر آ يارب مَزّقهم وفَرِّق شَمُلَهم يا ربِّ قَودهم إلى ذوبانهم اے میرے رب ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر اور ان کی جمعیت کو پاش پاش کر دے اے میرے رب ان کو ان کے گداز ہونے کی طرف کھینچ قد أزمعوا إضلالنا ووبالنا فاضرِبُ مكايدهم على أبدانهم انہوں نے ہما را گمراہ کرنا اور وبال میں ڈالنادلوں میں ٹھان لیا ہے سو تو ان کے مکر انہیں کے جسموں پر مار وإذا رميت فإن سهمك قاتل حَلٌّ كـأسـيـاف عـلـى شجعانهم اور جب تو تیر چلاوے تو تیر تیرا قتل کرنے والا ہے تیز ہے اور تلواروں کی طرح ان کے بہادروں پر پڑتا ہے صرنا حمولة جورهم وجفائهم زُمَتْ ركاب الهجر من وثبانهم ہم ان کے ظلم کے شتر بار برداری ہو گئے جدائی کے اونٹوں کو ان کے حملوں کے سبب سے مہار دی گئی لولا تعافينا تعاقب سَبِّهم لرميت سهم النار عند مثانهم اگر ہم ان کی گالیوں کا جواب دینے سے کراہت نہ کرتے تو میں ان کے دخان کے مقابل پر آگ کے تیر چلاتا ما يظلم الأشرار إلا نفسهم سترى بـنـدم القلب عَضَّ بنانِهم ظالم کسی پر ظلم نہیں کرتے مگر اپنے نفس پر سو تو عنقریب دیکھے گا کہ وہ دلی ندامت سے اپنی سرانگشت کاٹیں گے ظنّوا بأن الله مخلف وعده فبغوا بأرض الله من طغيانهم انہوں نے خیال کیا کہ خدا تعالیٰ اپنا وعدہ نہیں پورا کرے گا تب وہ خدا تعالیٰ کی زمین میں اپنی بے اعتدالی کی وجہ سے باغی ہو گئے وقبول أمر الحق عار عندهم صعبٌ على السفهاء عطفُ عِنانهم سو حق کا قبول کرنا ان کے نزدیک عار ہے اور نادانوں پر حق کی طرف باگ پھیرنا سخت ہوگیا ہے