نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 125

۱۲۵ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى يعلم النوكى دخيلة أمرهم من غير رقتهـم ولـيـن لسانهم بے وقوف لوگ ان کی اصل حقیقت کو نہیں جانتے بس اسی قدر جانتے ہیں کہ وہ زبان کے نرم ہیں والله لولا ضنك عيش مُقلِقٍ ما مال مرتد إلى أديانهم اور بخدا اگر تنگی رزق کسی کو تکلیف نہ دیتی تو کوئی مرتد ان کے دین کی طرف میل نہ کرتا قد جاء هم قوم بحرص لبانهم ولينفُضَنُ ما كان في أردائهم ایک قوم تو ان کے دودھ کی حرص سے ان کے پاس آئی تاکہ وہ جو کچھ ان کی آستینوں میں ہے جھاڑ لیں كانوا كذئب البر مكلوم الحشا من جوعهم فسعوا إلى عمرانهم وہ جنگل کے بھیڑیے کی طرح بھوک سے خستہ اندرون تھے پس وہ ان کی آبادی کی طرف دوڑے قوم سُقوا كأس الحتوف بوعظهم قوم خـروق فـي يـدى سرحانهم ایک قوم نے تو موت کے پیالے ان کے وعظ سے پی لئے اور ایک دوسری قوم بڑہ کی طرح اس بھیڑیئے کے ہاتھوں میں ہے عمتُ بلاياهم وزاد فسادهم واشتد سيل الفتن من طغيانهم ان کی بلائیں عام ہو گئیں اور ان کا فساد بڑھ گیا اور فتنوں کا سیلاب ان کی بے اعتدالیوں سے بہت سخت ہو گیا يا رَبِّ خُذْهم مثل أخذك مفسدًا قد أفسد الآفاق طـولُ زمانهم اے خدا تو ان کو پکڑ جیسا کہ تو ایک مفسد کو پکڑتا ہے ان کے طول زمانہ نے دنیا کو بگاڑ دیا أدرك رجالا يا قديرُ ونسوةً رحمًا ونَجُ الخَلق من طوفانهم اے قادر تو اپنے رحم سے مردوں اور عورتوں کی جلد خبر لے اور مخلوق کو اس طوفان سے نجات بخش حلّت بأرض المسلمین جنودهم فسرَتْ غوائلهم إلى نسوانهم ان کے لشکر مسلمانوں کی زمین میں اتر آئے اور ان کی بلاؤں نے مسلمانوں کی عورتوں تک سرایت کی يا رب أحمد يا إله محمّد اِعصِمُ عبادك من سموم دخانهم اے احمد کے رب اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے الہ اپنے بندوں کو ان کے دھوؤں کی زہروں سے بچالے يا عوننا انصُرُ مَن سواك ملاذنا ضاقت علينا الأرض من أعوانهم اے ہمارے مددگار تیرے سوا ہمارا کون جا پناہ ہے ہم پر ان لوگوں کے مدد گاروں سے زمین تنگ ہو گئی