نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 109

1+9 روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى الـكـيـد، وعرف أنهم سقطوا في شبكته واغتروا بخديعته، وجاء وا اور فریب چل گیا اور وہ احمق اس کے دام میں پھنس گئے اور اس کے فریب میں آگئے اور اس کی سیٹی سن کر اس کے جال کے تحت فخه بصفيره ،وزفرته، فكلّمهم بأحاديث ملفّقة، وأكاذيب نیچے آ بیٹھے سو کہیں کی کہیں لگا کر جھوٹی باتیں سنانے لگا اور کہنے لگا کہ کیا سبب ہے کہ مجھ کو تم پر بڑا ہی مزخرفة، وقال ما لى يأخذنى رقّةٌ عليكم، ويهوى قلبي إليكم؟ لعل الله رحم آتا ہے شاید خدا تعالیٰ نے میرے چشمہ میں تمہاری کچھ قسمت لکھی ہے اور میرے قدر لكم حظا فى منهلى، ونُزُلاً فى منزلى، وأراد أن يجعلكم من مہمان خانہ میں تمہاری مہمانی مقدر ہے اور شاید خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ تم کو مالدار کردے۔ اور مجھے المتمولين۔ وقد كنتُ أعلم أنكم من أكرم جرثومة وأطهر أرومة، ومن پہلے سے معلوم ہے کہ تم لوگ بڑے خاندان کے آدمی اور اصیل ہو اور نیز رئیسوں کے بیٹے اور دولت مندوں أبناء بناة المجد وأرباب الجد والآن أراكم بصفر اليد، فألقي في قلبي کی اولاد ہو اور اب میں تم کو افلاس کی حالت میں دیکھتا ہوں سو میرے دل میں ڈالا گیا جو میں تم پر رحم اور أن أرحمكم وأشفق عليكم، وأقوم لمواساتكم ودفع آفاتکم، و کذلک کروں اور تمہاری ہمدردی کے لئے کھڑا ہو جاؤں اور اسی طرح میری عادت ہے وقعت شیمتی و استمرّت عادتى وخيرُ الناس من ينفع الناس، ويعين کیونکہ نیک آدمی وہی ہوتا ہے جو لوگوں کو نفع پہنچاوے اور مسکین لوگوں کی مدد کرے۔ ذوى الـفـاقـات والمساكين۔ وستَعجُمون عُودَ دعوای وحلاوةً جَناى، اور تم عنقریب میرے دعوی کی شاخ کا پھل آزما لو گے اور میرے پھل کی حلاوت تمہیں معلوم ہو جائے گی وإني لمن الصادقين۔ فكلوا هنيئًا مريئًا هذه المائدة الواردة، واستقبلوا اور میں سچا ہوں سو تم اس کھانے کو جو اترا ہے خوب سیر ہو کر مزہ سے کھاؤ اور اس دولت کی طرف رخ کرو هذه الدولة الحاردة، وخذوا تلك الغنيمة الباردة شاكرين۔ شفقت جس نے تمہاری طرف آنے کا قصد کیا اور اس مال مفت کو شکر کے ساتھ لے لو ۔