نورالحق حصہ اوّل — Page 96
روحانی خزائن جلد ۸ ۹۶ نور الحق الحصة الاولى ومن اعتراضات الواشى الضال، الذي ينوم بنعاس الضلال، اور یہ گمراہ نکتہ چین جو واب ضلالت میں سوتا ہے اس کے اعتراضات میں سے ایک وہ اعتراض ہے جس کو اس نے اعتراض بنى عليه عقيدته الباطلة في كتابه التوزين ۔ وتفصيله أنه اپنی کتاب تو زمین الاقوال میں اپنے عقیدہ باطلہ کی بنیاد ٹھہرایا ہے اور تفصیل اعتراض یہ ہے کہ اس نے قرآن کریم کی اس آیت رأى في القرآن الكريم آية يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَليكة ، فتلقف کریمہ کو دیکھا جويوم يقوم الروح والملائکۃ ہے الخ ۔ سو اس نے لفظ روح کو اس جگہ سے اچک لیا جیسے ایک حریص ایک لفظ الروح كالشحيح، وأراد أن يستنبط منه نزول المسيح، بل چیز کو اچک لیتا ہے اور چاہا کہ اس سے نزول مسیح پر دلیل قائم کرے بلکہ بے حیائی کی وجہ سے یہ بھی چاہا کہ اس سے حضرت مسیح کی أن يثبت ألوهيته كالوقيح، فكتبه مستدلا كالمبطلين الفرحين۔ الوہیت ثابت ہو جائے پس اس نے استدلال کے خیال سے باطل پرستوں کی طرح بہت خوش ہو کر اس آیت کو لکھا۔ أما الجواب فاعلم أن هذه الآية لا تفيده أصلا ولا يثبت منها اب اس کے جواب میں سمجھ کہ یہ آیت اس شخص کو کچھ بھی مفید نہیں اور اگر اس سے کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس شيء إلا حمقه وجهله وكونه من السفهاء المستعجلين۔ ولا يخفى یہی کہ یہ شخص احمق اور نادان اور سفیہ اور جلد باز ہے اور مشاہیر على الفضلاء الأعلام أن تأويل الروح بعيسى في هذا المقام دجل علماء پر پوشیدہ نہیں کہ اس مقام میں روح کے لفظ سے عیسی مراد لینا دجالیت اور وافتراء ، بل جاء في كتب التفسيـر أنـه جبرائيل عليه السلام، أو افترا رو سے 09 جبرائیل علیہ السلام یا کوئی دوسرا فرشتہ بلکہ تفسیروں کی ہے ملک آخر على اختلاف الروايات كما لا يخفى على الناظرين۔ ثم ہے اور دونوں قسم کی روایتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ دیکھنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ پھر منطوق منطوق الآية يبدى بالتصريح ويحكم بالتنقيح أن هذه الواقعة متعلقة | آیت کا بتفریح ظاہر کرتا ہے اور تنقیح کے ساتھ حکم دیتا ہے واقعہ قیامت النبأ : ٣٩ سے