نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 95

۹۵ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى وكم كلم مهفهفة دقاق هضيم الكشح كالغيد الحسان اور بہت سے کلمے نازک اور باریک ہیں بہت نازک جیسے نازک اندام اور خوبصورت عورتیں ہوتی ہیں فيدرى الضامراتِ ذوو الضمور ولا يدرى سـفـيـة كالسمان پس بار یک باتوں کو وہ لوگ سمجھتے ہیں جو مرتاض اور دقیق الفکر ہیں اور ان باتوں کو وہ شخص نہیں جانتا جو موٹی عقل والا موٹی عورتوں کی طرح ہو فإن تبـــغــى الــدقـــــائقَ مثل إبرٍ فَلِجُ في سَمَها ودَعِ الأمانيا پس اگر تو ایسے بار یک حقائق چاہتا ہے جیسے سوئیاں سو تو سوئی کے نا کہ میں داخل ہوجا اور تمام نفسانی جذبات چھوڑ دے وإن تستطلعنُ أنباء موتى فمُتُ كـالـمـحـرقين وكُن كفاني اور اگر تو چاہتا ہے کہ مردوں کی خبریں تجھے معلوم ہوں سو تو ان مردوں کی طرح مر جا جو جلائے گئے اور نابود ہو گئے وبذل الجهد قانون قديم منى لـلـطـــــالبـيـن قـضـــاء مـــاني اور کوشش کرنا قانون قدیم ہے جو مقدر حقیقی نے ڈھونڈنے والوں کے لئے بنایا ہے وإنى مسلم والسلم ديني فلا تُكفِرُ وخَفْ ربّ الزمان | اور میں مسلمان ہوں اور اسلام میرا دین ہے سو تو کافر مت ٹھہرا اور خدا تعالیٰ سے خوف کر وإن أزمعت تكفيرى وعدلى فقُلُ ما شئت من شوق الجنان اور اگر تو نے یہی قصد کیا ہے کہ مجھے کا فر کہے اور ملامت کرے سو جو تیری مرضی ہو وہ شوق سے کہتا را ولا نخشى سهام اللاعنينا ولا نغتاظ مـن تـكـفـيـر خـانی اور ہم لعنت کرنے والوں کے تیروں سے نہیں ڈرتے اور ایک بے ہودہ گو کی تکفیر سے ہم غصہ نہیں کرتے جنحنا کاهلا منا ذلولا لأثقال المطاعن واللعان اور ہم نے اپنا ریاضت کش شانہ طعن اور لعنت کے بوجھوں کے لئے جھکا دیا ہے فإن شاء المهيمن ذو جلال يبرء رحمــة مـمــــا تـــرانی پس اگر خدائے بزرگ گا چاہیے تو اپنی رحمت سے مجھے ان الزاموں سے بری کر دے گا جو تو مجھ پر لگاتا ہے وفي فمي لسان غير أني أحبّ جواب ربِّ مستعان منہ میں بھی زبان ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ خدائے مددگار تجھ کو جواب دے كلمنا حمد وشكر لرب محسن ذي الامتنان ہے اس محسن رب کے لئے جس کے احسان مجھ پر ہیں اور میرے اور ہمارا آخر کلام حمد اور شکر