نورالقرآن نمبر 2 — Page 453
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۵۱ نور القرآن نمبر ۲ کہ وہ ایسی جوان عورتوں پر نظر ڈالتا ہے جن پر نظر ڈالنا اس کو درست نہ تھا ۔ کیا جائز تھا کہ ایک کسی کے ساتھ وہ ہم نشین ہوتا ۔ کاش اگر وہ متعہ کا ہی پابند ہوتا تو ان حرکات سے بچ جاتا۔ کیا یسوع کی بزرگ دادیوں نانیوں نے متعہ کیا تھا یا صریح صریح زنا کاری تھی ہم عیسائی صاحبوں سے پوچھتے ہیں کہ جس مذہب میں نہ متعہ یعنی نکاح موقت درست ہے اور نہ ازدواج ثانی جائز اس مذہب کے لشکری لوگ جو باعث رعایت حفظ قوت کے راہبانہ زندگی بھی بسر نہیں کر سکتے بلکہ شہوت کی جنبش دینے والی شرابیں پیتے ہیں اور عمدہ سے عمدہ خوراکیں کھاتے ہیں تا سپاہیانہ کاموں کے بجالانے میں چست و چالاک رہیں جیسے گوروں کی پلٹنیں وہ کیونکر بد کاریوں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہیں اور ان کی حفظ عفت کے لئے انجیل میں کیا قانون ہے اور اگر کوئی قانون تھا اور انجیل میں ایسے مجردوں کا کچھ علاج لکھا تھا تو پھر کیوں سرکار انگریزی نے ایکٹ چھاؤنی ہائے نمبر ۱۳ ۱۸۸۹ ء جاری کر کے یہ انتظام کیا کہ گورہ سپاہی فاحشہ عورتوں کے ساتھ خراب ہوا کریں یہاں تک کہ سر جارج رائٹ صاحب کمانڈر انچیف افواج ہند نے ماتحت حکام کو ترغیب دی کہ ایسی خوبصورت اور جوان عورتیں گوروں کی زنا کاری کے لئے بہم پہنچائی جائیں یہ ظاہر ہے کہ اگر ایسی ضرورتوں کے وقت جنہوں نے حکام کو ان قابل شرم تجویزوں کے لئے مجبور کیا انجیلوں میں کوئی تدبیر ہوتی تو وہ حلال طریق کو چھوڑ کر نا پاک طریقوں کو اپنے بہادر سپاہیوں میں رواج نہ دیتے ۔ اسلام میں کثرت ازدواج کی برکتوں نے ہر یک زمانہ میں سلاطین کو ان ناپاک تدبیروں سے بچا لیا اسلامی سپاہی نکاح سے اپنے تئیں حرام کاری سے بچا لیتے ہیں اگر پادری صاحبان کوئی مخفی تدبیر انجیل کی حرام کاری سے بچانے کی یاد رکھتے ہیں تو اس طریق ۔