نورالقرآن نمبر 2 — Page 451
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۴۹ نور القرآن نمبر ۲ پڑ گیا ہے کہ یہ کھاؤ پیو ہے ۔ اس سے کس تقومی اور نیک بختی کی امید ہو سکتی ہے ہمارے سید و مولی افضل الانبیاء خیر الاصفیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا تقویٰ دیکھئے کہ وہ ان عورتوں کے ہاتھ سے بھی ہاتھ نہیں ملاتے تھے جو پاک دامن اور نیک بخت ہوتی تھیں اور بیعت کرنے کے لئے آتی تھیں بلکہ دور بٹھا کر صرف زبانی تلقین تو بہ کرتے تھے مگر کون عقلمند اور پر ہیز گارایسے شخص کو پاک باطن سمجھے گا جو جوان عورتوں کے چھونے سے پر ہیز نہیں کرتا ایک کنجری خوبصورت ایسی قریب بیٹھی ہے گویا بغل میں ہے کبھی ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی ہے کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشمنا اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گود میں تماشہ کر رہی ہے یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں ۔ اور طرفہ یہ کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد اور ایک خوبصورت کسی عورت سامنے پڑی ہے۔ جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے ۔ کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کسی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی ۔ افسوس کہ یسوع کو یہ بھی میسر نہیں تھا کہ اس فاسقہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا ۔ کم بخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہوں گے اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہوگا اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کا رعورت مجھ سے دور رہ اور یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف میں سے تھی اور زنا کاری میں سارے شہر میں مشہور تھی ۔