نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 449

روحانی خزائن جلد ؟ ۴۴۷ نور القرآن نمبر ۲ درخت کی طرف دوڑے گئے کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ درخت ان کا یا ان کے والد صاحب کی ملک میں سے تھا۔ پس جو شخص بیگانہ درخت کو دیکھ کر اپنے نفس پر غالب نہ آسکا اور پیٹ کو بھینٹ چڑھانے کے لئے اس کی طرف دوڑا گیا وہ خدا تو کیا بلکہ بقول آپ کے فردا کمل بھی نہیں۔ الغرض کسی کے دل میں یہ خیال گذرنا کہ یہ چیز خوبصورت ہے یہ ایک علیحدہ امر ہے جس کو خدا نے آنکھیں دی ہیں جیسے وہ کانٹے اور پھول میں فرق کر سکتا ہے۔ ایسا ہی وہ خوبصورت اور بدصورت میں فرق کر سکتا ہے آپ کے خدا صاحب کو شاید یہ قوت ممیّزہ فطرت سے نہیں ملی ہوگی مگر پیٹ کی شہوت کے لئے تو انجیر کے درخت کی طرف دوڑے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ کس کا انجیر ہے۔ تعجب کہ ایک شرابی اور کھاؤ پیو کو شہوت پرست نہ کہا جائے اور وہ پاک ﴿۴۶﴾ ذات جس کی زندگی اور جس کا ہر یک فعل خدا کے لئے تھا اس کا نام اس زمانہ کے پلید طبع شہوت پرست رکھیں عجب تاریکی کا زمانہ ہے۔ یہ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کا ایک نمونہ ہے کہ ہرگز قصداً کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھو کہ یہ بدنظری کا پیش خیمہ ہے اور اگر اتفاقاً کسی خوبصورت عورت پر نظر پڑے اور وہ خوبصورت معلوم ہو تو اپنی عورت سے صحبت کر کے اس خیال کو ٹال دو ۔ خوب یا د رکھو کہ یہ تعلیم اور یہ حکم حفظ ما تقدم کے طور پر ہے جو شخص مثلاً ہیضہ کے دنوں میں ہیضہ سے بچنے کے لئے حفظ ما تقدم کے طور پر کوئی دوا استعمال کرتا ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کو ہیضہ ہو گیا ہے یا ہیضہ کے آثار اس میں ظاہر ہو گئے ہیں بلکہ یہ بات اس کی دانشمندی میں محسوب ہوگی اور سمجھا جائے گا کہ وہ اس بیماری سے طبعا نفرت رکھتا ہے اور اس سے