نورالقرآن نمبر 2 — Page 433
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۳۱ نور القرآن نمبر ۲ کرنی چاہئے اور شیطان کے جانشینوں سے وہ پیار کرو جو رحمن کے جانشینوں سے کرنا چاہئے افسوس کہ پہلے تو انجیل کے باطل ہونے پر ہمارے پاس یہی ایک دلیل تھی کہ وہ ایک عاجز مشت خاک کو خدا بناتی ہے اب یہ دوسری دلائل بھی پیدا ہوگئیں کہ اس کی دوسری تعلیمیں بھی گندی ہیں کیا یہ پاک تعلیم ہو سکتی ہے کہ شیطان سے ایسی ہی محبت کرو جیسا کہ خدا سے اور اگر یہ عذر کیا جائے کہ یسوع کے منہ سے سہوا یہ باتیں نکل گئیں کیونکہ وہ الہیات کے فلسفہ سے نا واقف تھا تو یہ عذر نکما اور فضول ہوگا کیونکہ اگر وہ ایسا ہی نا واقف تھا تو کیوں اس نے قوم کے مصلح ہونے کا دعویٰ کیا ۔ کیا وہ بچہ تھا اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ محبت کی حقیقت بالالتزام اس بات کو چاہتی ہے کہ انسان بچے دل سے اپنے محبوب کے تمام شمائل اور اخلاق اور عبادات پسند کرے اور ان میں فنا ہونے کے لئے بدل و جان ساعی ہو تا اپنے محبوب میں ہو کر وہ زندگی پاوے جو محبوب کو حاصل ہے سچی محبت کرنے والا اپنے محبوب میں فنا ہو جاتا ہے ۔ اپنے محبوب کے گریبان سے ظاہر ہوتا ہے اور ایسی تصویر اس کی اپنے اندر کھینچتا ہے کہ گویا اسے پی جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اس میں ہو کر اور اس کے رنگ میں رنگین ہو کر اور اس کے ساتھ ہو کر لوگوں پر ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ در حقیقت اس کی محبت میں کھویا گیا ہے۔ محبت ایک عربی لفظ ہے اور اصل معنی اس کے پر ہو جانا ہے (۳۶) چنا نچہ عرب میں یہ مثل مشہور ہے کہ تَحَبَّبَ الْحِمَارُ یعنی جب عربوں کو یہ کہنا منظور ہو جاتا ہے کہ گدھے کا پیٹ پانی سے بھر گیا تو کہتے ہیں کہ