نورالقرآن نمبر 2 — Page 426
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۲۴ نور القرآن نمبر ۲ جو جسم اور روح کے لئے دارالجزا ہے وہ ایک ادھورا اور ناقص دارالجزا نہیں بلکہ اس میں جسم اور جان دونوں کو اپنی اپنی حالت کے موافق جزا ملے گی جیسا کہ جہنم میں اپنی اپنی حالت کے موافق دونوں کو سزا دی جائے گی اور اس کی اصل تفصیلات ہم خدا کے حوالے کرتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ جزا سزا جسمانی روحانی دونوں طور پر ہوں گی اور یہی وہ عقیدہ ہے جو عقل اور انصاف کے موافق ہے اور یہ نہایت شرارت اور خباثت اور حرام زدگی ہے کہ قرآن پر یہ طعن وارد کیا جائے کہ وہ صرف جسمانی بہشت کا وعدہ کرتا ہے۔ قرآن تو صاف کہتا ہے کہ ہر یک جو بہشت میں داخل ہو گا وہ جسمانی روحانی دونوں قسم کی جزا پائے گا اور جیسا کہ نعمت جسمانی اس کو ملے گی ۔ ایسا ہی وہ دیدار الہی سے لذت اٹھائے گا اور یہی اعلیٰ لذت بہشت میں ہے معارف کی لذت بھی ہوگی اور طرح طرح کے انوار کی لذت بھی ہوگی اور عبادت کی لذت بھی ہو گی مگر اس کے ساتھ جسم بھی اپنی سعادت تامہ کو پہنچے گا ۔ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جس قدر قرآن نے بہشتیوں کی روحانی جزا کی کیفیت لکھی ہے انجیل میں ہرگز نہیں ۔ جس شخص کو شک ہو ہمارے مقابل پر آئے اور ہم سے سنے اور انجیل کی تعلیم سناوے اگر وہ غالب ہوا اور اس نے ثابت کیا کہ انجیل میں بہشتیوں کی روحانی جزا قرآن سے بڑھ کر لکھی ہے تو ہم حلفاً کہتے ہیں کہ اسی وقت ہزار روپیہ نقد اس کو دیا جائے گا ۔ جس جگہ چاہیے با ضابطہ تحریر دے کر جمع کرالے۔ اے اندھو! قرآن کے مقابل پرانجیل کچھ بھی چیز نہیں ۔ کیوں تمہاری شامت آئی ہے۔ گھروں میں آرام کر کے بیٹھو اب تمہاری رسوائی کا وقت آگیا ہے کیا تم میں کسی کو