نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 425

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۲۳ نور القرآن نمبر ۲ سزا کی حالت میں اس کا غضب ہوگا اگر جسم کو سزا سے الگ رکھتا تو بے شک جزا سے بھی اس کو الگ رکھتا مگر جبکہ اس نے سزا کے وقت جسم کو گناہ کا شریک سمجھ کر جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا تو اے اندھو اور کوتاہ اندیشو ! کیا وہ ایمان اور عمل صالح کی شراکت کے وقت جسم کو جزا سے حصہ نہیں دے گا ۔ کیا جب مردے جی اٹھیں گے تو بہشتیوں کو عبث طور پر ہی جسم ملے گا ۔ اور یہ بھی بد یہی بات ہے کہ جب جسم اپنے تمام قومی کے ساتھ روح سے پیوند کیا جائے گا تو وہ جسمانی قوی یا راحت میں ہوں گے یا رنج میں کیونکہ دونوں حالتوں کا مرتفع ہونا محال ہے پس اس صورت میں ماننا پڑا کہ جیسا جسم سزا کی حالت میں دکھ اٹھائے گا ویسا ہی وہ جزا کی حالت میں ایک قسم کی راحت سے بھی ضرور متمتع ہوگا اور اسی راحت کی قرآن کریم میں تفصیل ہے ۔ ہاں خدا تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ بہشت کی نعمتیں فوق الفہم ہیں تمہیں ان کا حقیقی علم نہیں دیا گیا اور تم وہ نعمتیں پاؤ گے جواب تم سے پوشیدہ ہیں ۔ جو نہ دنیا میں کسی نے دیکھیں اور نہ سنیں اور نہ دلوں میں گذریں وہ تمام مخفی امور میں اسی وقت سمجھ میں آئیں گی جب وارد ہوں گی جو کچھ قرآن اور حدیث میں وعدے ہیں وہ سب مثال کے طور پر بیان کیا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ امور مخفی ہیں جن کی کسی کو اطلاع نہیں پس اگر وہ لذات اسی قدر ہوتیں جیسے اس دنیا میں شربت یا شراب پینے کی (۳۱) لذت یا عورت کی جماع کی لذت ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ یہ نہ کہتا کہ وہ ایسے امور ہیں کہ جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے اور نہ کسی کان نے سنے ۔ اور نہ وہ کبھی کسی کے دل میں گذرے پس ہم مسلمان لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ بہشت