نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 423 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 423

روحانی خزائن جلد ؟ ۴۲۱ نور القرآن نمبر ۲ وہ کتابیں دنیا میں سا نہ سکتیں اب کہو کہ دروغ گوئی میں انجیل کو کمال ہے یا کچھ کسر رہ گئی ۔ یہ بھی یادر ہے کہ قرآن شریف میں گناہ کو ہلکا نہیں سمجھا گیا بلکہ بار بار بتلایا گیا ہے کہ کسی کو بجز اس کے نجات نہیں کہ گناہ سے بچی نفرت پیدا کرے مگر انجیل نے سچی نفرت کی تعلیم نہیں دی انجیل نے ہرگز اس بات پر زور نہیں دیا کہ گناہ ہلاک کرنے والا زہر ہے اس کے عوض اپنے اندر کوئی تریاق پیدا کرو بلکہ اس محرف انجیل نے نیکیوں کا عوض یسوع کی خودکشی کو کافی سمجھ لیا ہے مگر یہ کیسی بے ہودہ اور بھول کی بات ہے کہ حقیقی نیکی کے حاصل کرنے کی طرف توجہ نہیں بلکہ انجیل کی یہی تعلیم ہے کہ عیسائی بنو اور جو چا ہو کر و ۔ کفارہ ناقص ذریعہ نہیں ہے تاکسی عمل کی حاجت ہو ۔ اب دیکھو اس سے زیادہ بدی پھیلنے کا ذریعہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ جب تک تم اپنے تئیں پاک نہ کرو اس پاک گھر میں داخل نہ ہو گے اور انجیل کہتی ہے کہ ہر ایک بد کاری کر تیرے لئے یسوع کی خود کشی کا فی ہے ۔ اب کس نے گناہ کو ہلکا سمجھا قرآن نے یا انجیل نے ۔ قرآن کا خدا ہر گز کسی کو نیک نہیں ٹھہرا تا ۔ جب تک بدی کی جگہ نیکی نہ آ جائے مگر انجیل نے اندھیر مچا دیا ہے ۔ کفارہ سے تمام نیکی اور راستبازی کے حکموں کو ہلکا اور بیچ کر دیا اور اب عیسائی کے لئے ان کی ضرورت نہیں ۔ حیف صد حیف ۔ افسوس صد افسوس ۔ دوسرا سوال آپ کا یہ ہے کہ بہشت کی تعلیم محض نفسانی ہے جس سے ایک خدا رسیدہ شخص کو کچھ تسلی نہیں ہو سکتی ۔ اما الجواب پس واضح ہو کہ یہ بات نہایت بدیہی اور عند العقل مسلم اور قرین انصاف ہے