نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 414

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۱۲ نور القرآن نمبر ۲ ڈالے جائیں گے مگر ایسا شخص جس پر زبردستی کی جائے یعنی ایمانی شعار کے ادا کرنے سے کسی فوق الطاقت عذاب کی وجہ سے روکا جائے اور دل اس کا ایمان سے تسکین یافتہ ہے وہ عند اللہ معذور ہے۔ مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اگر کوئی ظالم کسی مسلمان کو سخت درد ناک اور فوق الطاقت زخموں سے مجروح کرے اور وہ اس عذاب شدید میں کوئی ایسے کلمات کہہ دے کہ اس کافر کی نظر میں کفر کے کلمات ہوں مگر وہ خود کفر کے کلمات کی نیت نہ کرے بلکہ دل اس کا ایمان سے لبالب ہو اور صرف یہ نیت ہو کہ وہ اس نا قابل برداشت سختی کی وجہ سے اپنے دین کو چھپاتا ہے مگر نہ عمداً بلکہ اس وقت جبکہ فوق الطاقت عذاب پہنچنے سے بے حواس اور دیوانہ سا ہو جائے تو خدا اس کی تو بہ کے وقت اس کے گناہ کو اس کی شرائط کی پابندی سے جو نیچے کی آیت میں مذکور ہیں ۔ معاف کر دے گا کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے۔ اور وہ شرائط یہ ہیں ۔ ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فَتِنُوْا ثُمَّ جَهَدُوا وَصَبَرُ وا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِیم ہے یعنی ایسے لوگ جو فوق الطاقت دکھ کی حالت میں اپنے اسلام کا اختفاء کریں ان کا اس شرط سے گناہ بخشا جائے گا کہ دکھ اٹھانے کے بعد پھر ہجرت کریں یعنی ایسی عادت سے یا ایسے ملک سے نکل جائیں جہاں دین پر زبردستی ہوتی ہے پھر خدا کی راہ میں بہت ہی کوشش کریں اور تکلیفوں پر صبر کریں ان سب باتوں کے بعد خدا ان کا گناہ بخش دے گا کیونکہ وہ غفور رحیم ہے۔ اب ان تمام آیات سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی فوق الطاقت دکھ کے وقت بھی جو دشمنوں سے اس کو پہنچے دین اسلام کی گواہی کو پوشید ہ کرے (۲۳) وہ بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک گناہ گار ہے مگر خدمات شائستہ دکھلانے کے النحل : ااا