نورالقرآن نمبر 2 — Page 413
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۱۱ نور القرآن نمبر ۲ نہ دیا کہ اس نے ترک کر دیا مگر بات تو ظاہر ہے کہ خدائی کا دعوی کیا ۔ تکبر کیا ترک کیا گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے آخر وقت میں مخیر کیا کہ اگر چا ہو تو دنیا میں رہو اور اگر چاہو تو میری طرف آ جاؤ ۔ آپ نے عرض کیا کہ اے میرے رب اب میں یہی چاہتا ہوں کہ تیری طرف آؤں اور آخری کلمہ آپ کا جس پر آپ کی جان مطہر رخصت ہو گئی ۔ یہی تھا کہ بالرفیق الاعلی یعنی اب میں اس جگہ رہنا نہیں چاہتا۔ میں اپنے خدا کے پاس جانا چاہتا ہوں ۔ اب دونوں کلموں کو وزن کر و ۔ آپ کے خدا صاحب نے نہ فقط ساری رات زندہ رہنے کے لئے دعا کی بلکہ صلیب پر بھی چلا چلا کر روئے کہ مجھے موت پرج سے بچا لے مگر کون سنتا تھا ۔ لیکن ہمارے مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے لئے ہر گز دعا نہیں کی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ مختار کیا کہ اگر زندگی کی خواہش (۲۳) ہے تو یہی ہوگا ۔ مگر آپ نے فرمایا کہ اب میں اس دنیا میں رہنا نہیں چاہتا کیا یہ خدا ہے جس پر بھروسہ ہے ڈوب جاؤ !!! اور آپ کا یہ زعم کہ قرآن اپنے دین کو چھپا لینے کے لئے حکم دیتا ہے محض بہتان اور افترا ہے جس کی کچھ بھی اصلیت نہیں ۔ قران تو ان پر لعنت بھیجتا ہے " ۔ جو دین کی گواہی کو عمداً چھپاتے ہیں اور ان پر لعنت بھیجتا ہے جو جھوٹ بولتے ہیں شاید آپ نے قرآن کی اس آیت سے بوجہ نا فہمی کے دھوکا کھایا ہو گا جو سورۃ النحل میں مذکور ہے ۔ اور وہ یہ ہے إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَنُ بِالْإِيْمَانِ یعنی کا فر عذاب میں نوٹ: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ قرآن شریف میں ہے یا انجیل میں جواب تو دو۔ منہ النحل : ۱۰۷