نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 412 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 412

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۱۰ نور القرآن نمبر ۲ (۲) لوگ اپنے شریک دشمنوں سے محبت تو کرتے ہیں اور میٹھی میٹھی باتوں سے پیش آتے ہیں مگر ان کے حقوق دبا لیتے ہیں ایک بھائی دوسرے بھائی سے محبت کرتا ہے ۔ اور محبت کے پردہ میں دھوکا دے کر اس کے حقوق دبا لیتا ہے مثلاً اگر زمیندار ہے تو چالاکی سے اس کا نام کا غذات بندوبست میں نہیں لکھوا تا اور یوں اتنی محبت کہ اس پر قربان ہوا جاتا ہے پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں محبت کا ذکر نہ کیا بلکہ میعار محبت کا ذکر کیا کیونکہ جوشخص اپنے جانی دشمن سے عدل کرے گا۔ اور سچائی اور انصاف سے در گذر نہیں کرے گا وہی ہے جو سچی محبت بھی کرتا ہے مگر آپ کے خدا کو یہ تعلیم یاد نہ رہی کہ ظالم دشمنوں کے ساتھ عدل کرنے پر ایسا زور دیتا جو قرآن نے دیا اور دشمن کے ساتھ سچا معاملہ کرنے کے لئے اور سچائی کو لازم پکڑنے کے لئے وہ تاکید کرتا جو قرآن نے تاکید کی اور تقویٰ کی باریک راہیں سکھاتا مگر افسوس کہ جو بات سکھلائی دھو کے کی سکھلائی اور پرہیز گاری کی سیدھی راہ پر قائم نہ کر سکا یہ آپ کے فرضی يسوع کی نسبت ہم کہتے ہیں جس کے چند پریشان ورق آپ کے ہاتھ میں ہیں اور جو خدائی کا دعویٰ کرتا کرتا آخر مصلوب ہو گیا اور ساری رات رو رو کر دعا کی کہ کسی طرح بچ جاؤں مگر بچ نہ سکا۔ ہمارے سید و مولی نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے تو آپ دنیا سے جانے کے لئے دعا کی کہ الحقني بالرفيق الاعلی مگر آپ کے خدا صاحب نے دنیا کی چند روزہ زندگی سے ایسا پیار کیا کہ ساری رات زندہ رہنے کے لئے دعائیں کرتا رہا بلکہ سولی پر بھی رضا اور تسلیم کا کلمہ منہ سے نہ نکلا اور اگر نکلا تو یہ نکلا کہ ایـلـی ایـلـی لما سبقتنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں ترک کر دیا اور خدا نے کچھ جواب