نورالقرآن نمبر 2 — Page 411
روحانی خزائن جلد ؟ ۴۰۹ نور القرآن نمبر ۲ انجیلی تعلیم ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی لوگ جھوٹ سے بہت ہی پیار کرتے ہیں ۔ چنانچہ عملی حالت اس پر شاہد ہے ۔ مثلاً قرآن تو تمام مسلمانوں کے ہاتھ میں ایک ہی ہے مگر سنا گیا ہے کہ الجیلیں ساٹھ سے بھی کچھ زیادہ ہیں ۔ شاباش اے پادریان جھوٹ کی مشق بھی اسے کہتے ہیں ۔ شاید آپ نے اپنے ایک مقدس بزرگ کا قول سنا ہے کہ جھوٹ بولنا نہ صرف جائز بلکہ ثواب کی بات ہے خدا تعالیٰ نے عدل کے بارے میں جو بغیر سچائی پر پورا قدم مارنے کے حاصل نہیں ہو سکتی ۔ فرمایا ہے لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوى لا یعنی دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔ انصاف پر قائم رہو کہ تقومی اسی میں ہے ۔ اب آپ کو معلوم ہے کہ جو قو میں ناحق ستاویں اور دکھ دیویں اور خونریزیاں کریں اور تعاقب کریں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کریں جیسا کہ مکہ والے کافروں نے کیا تھا اور پھر لڑائیوں سے باز نہ آدیں ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتاؤ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع نہیں کیا اور انصاف اور راستی کے لئے وصیت کی مگر آپ تو تعصب کے گڑھے میں گرے ہیں ان پاک باتوں کو کیونکر سمجھیں ۔ انجیل میں اگر چہ لکھا ہے کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو مگر یہ نہیں لکھا کہ دشمن قوموں کی دشمنی اور ظلم تمہیں انصاف اور سچائی سے مانع نہ ہو ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط جوانمردوں کا کام ہے اکثر المآئدة: 9