نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 405 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 405

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۰۳ نور القرآن نمبر ۲ سے نکال کر دکھلا دے تو اس قدر انعام اس کو دیا جائے گا مگر پادری صاحبان اب تک ایسے چپ رہے کہ گویا ان میں جان نہیں اب مدت کے بعد فتح مسیح صاحب کفن میں سے بولے شاید بوجہ امتداد زمانہ ہمارا وہ اشتہار ان کو یاد نہیں رہا۔ پادری صاحب آپ خس و خاشاک کو سونا بنانا چاہتے ہیں اور سونے کی کان سے منہ مروڑ کر ادھر اُدھر بھاگتے ہیں اگر یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے ۔ قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزَّوْرِ ے یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پر ہیز کرو اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔ یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُوْنُوْا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِينَ - الجزء نمبر ٢ یعنی اے ایمان والو انصاف اور راستی پر قائم ہو جاؤ اور سچی گواہیوں کو اللہ ادا کرو اگر چہ تمہاری جانوں پر ان کا ضرور پہنچے یا تمہارے ماں باپ اور تمہارے اقارب ان گواہیوں سے نقصان اٹھاویں۔ اب اے ناخدا ترس ذرا انجیل کو کھول اور ہمیں بتلا کہ راست گوئی کے لئے ایسی تاکید انجیل میں کہاں ہے اور اگر ایسی تاکید ہوتی تو پطرس اول درجہ کا حواری کیوں جھوٹ بولتا اور کیوں جھوٹی قسم کھا کر اور حضرت مسیح پر لعنت بھیج کر صاف منکر ہو جاتا کہ میں اس کو نہیں جانتا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم محض راست گوئی کی وجہ سے شہید ہوتے رہے اور الہی گواہی کو انہوں نے ہر گز مخفی نہ رکھا گو ان کے خون سے زمین سرخ ہوگئی مگر انجیل سے ثابت ہے کہ خود آپ کے یسوع صاحب اس شہادت کو مخفی رکھتے رہے ہیں جس کا ظاہر الحج: ١ النساء : ۱۳۶ یا نوٹ:۔ دیکھومتی ۶ باب آیت ۲۰