نورالقرآن نمبر 2 — Page 396
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۹۴ نورالقرآن نمبر ۲ ہاں مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے اس کا جواب بھی کبھی آپ نے سوچا ہوگا ہم تو سوچ کر تھک گئے اب تک کوئی عمدہ جواب خیال میں نہیں آیا کیا ہی خوب خدا ہے جس کی دادیاں اور نانیاں اس کمال کی ہیں آپ یا درکھیں کہ ہم بقول آپ کے مرد میدان بن کر ہی رسالہ لکھیں گے اور آپ کو دکھا ئیں گے کہ وساوس کی بیخ کنی اسے کہتے ہیں اس جاہل گمراہ کا شکست دینا کون سے بڑی بات ہے جو انسان کو خدا بناتا ہے مگر آپ از راہ مہربانی ان چند باتوں کا جو میں نے دریافت کی ہیں ۔ ضرور جواب لکھیں ۔ اور ان الفاظ سے ناراض نہ ہوں جو لکھے گئے ہیں کیونکہ الفاظ محل پر چسپاں ہیں ۔ اور آپ کی شان کے شایان ہیں۔ جس حالت میں آپ نے باوجود بے علمی اور جہالت کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو سید المطھرین ہیں زنا کی تہمت لگائی ۔ تو اس پلید جھوٹ اور افترا کا یہی جواب تھا ۔ جو آپ کو دیا گیا ۔ ہم نے بہتیرا چاہا کہ آپ لوگ بھلے مانس بن جاویں ۔ اور گالیاں نہ دیا کریں مگر آپ لوگ نہیں مانتے ۔ آپ ناحق اہل اسلام کا دل دکھاتے ہیں آپ نہیں جانتے کہ ہمارے نزدیک وہ نادان ہر ایک زنا کار سے بدتر ہے جو انسان کے پیٹ سے نکل کر خدا ہونے کا دعوی کرے ۔ اگر آپ لوگ مسیح کے خیر خواہ ہوتے تو ہم سے جناب مقدس نبوی کے ذکر میں یہ ادب پیش آتے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ تم اپنے باپ کو گالی مت دو لوگوں نے عرض کی کوئی باپ کو بھی گالی دیتا ہے آپ نے فرمایا ہاں جب تو کسی کے باپ کو گالی دے گا تو وہ ضرور (۱۳) تیرے باپ کو بھی گالی دے گا تب وہ گالی اس نے نہیں دی بلکہ تو نے