نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 395

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۹۳ نور القرآن نمبر ۲ حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے ۔ اس لئے یورپ کی عورتیں نہایت قابل شرم آزادی سے فائدہ اٹھا کر اعتدال کے دائرہ سے اِدھر اُدھر نکل گئیں اور آخر نا گفتنی فسق و فجور تک نوبت پہنچی ۔ اے نادان ! فطرت انسانی اور اس کے بچے پاک جذبات سے اپنی بیویوں سے پیار کرنا اور حسن معاشرت کے ہر قسم جائز اسباب کو برتنا انسان کا طبعی اور اضطراری خاصہ ہے اسلام کے بانی علیہ الصلوة والسلام نے بھی اسے برتا اور اپنی جماعت کو ایک نمونہ دیا مسیح نے اپنے نقص (۱۲) تعلیم کی وجہ سے اپنے ملفوظات اور اعمال میں یہ کمی رکھ دی مگر چونکہ طبعی تقاضا تھا اس لئے یورپ اور عیسویت نے خود اس کے لئے ضوابط نکالے ۔ اب تم خود انصاف سے دیکھ لو کہ گندی سیاہ بدکاری اور ملک کا ملک رنڈیوں کا نا پاک چکلہ بن جانا ہائیڈ پارکوں میں ہزاروں ہزار کا روز روشن میں کتوں اور کیتیوں کی طرح اوپر تلے ہونا اور آخر اس نا جائز آزادی سے تنگ آکر آہ و فغان کرنا اور برسوں دیوشیوں اور سیاہ روئیوں کے مصائب جھیل کر اخیر میں مسودہ طلاق پاس کرانا یہ کس بات کا نتیجہ ہے ۔ کیا اس قدوس مطهر ۔ مزگی نبی اُمّی کی معاشرت کے اس نمونہ کا جس پر خباثت باطنی کی تحریک سے آپ معترض ہیں یہ نتیجہ ہے ۔ اور ممالک اسلامیہ میں یہ تعفن اور زہریلی ہوا پھیلی ہوئی ہے یا ایک سخت ناقص نالائق کتاب پولوسی انجیل کی مخالف فطرت اور ادھوری تعلیم کا یہ اثر ہے اب دو زانو ہو کر بیٹھو اور یوم الجزا کی تصویر کھینچ کر غور کرو ۔